Pakistan
نادرہ کا سوشل میڈیا صارفین کے لیے الرٹ: ڈیٹا سیکیورٹی پر خصوصی ہدایات
نادرہ نے سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین کے لیے سیکیورٹی اور ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ذاتی کوائف اور شناختی دستاویزات کی معلومات کو کسی بھی غیر متعلقہ پلیٹ فارم پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) نے ملک بھر کے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک انتہائی اہم ہدایت جاری کی ہے، جس کا مقصد ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا اور سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر نادرہ حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی نجی معلومات، شناختی کارڈ کی کاپیاں یا دیگر حساس دستاویزات کو کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں۔
نادرہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اکثر صارفین نادانی میں اپنے شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات کی تصاویر فیس بک، واٹس ایپ گروپس یا دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں، جس سے شناخت کی چوری (Identity Theft) اور فراڈ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ ویب سائٹ یا ایپ پر اپنی ذاتی معلومات درج کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ آپ کے ڈیٹا کی چوری کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ نادرہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شہریوں کو صرف سرکاری اور منظور شدہ پورٹلز کا استعمال کرنا چاہیے جو کہ نادرہ کی اپنی ویب سائٹ یا آفیشل ایپس ہیں۔ اگر کسی بھی شخص کو شک ہو کہ ان کا شناختی ڈیٹا کسی غیر مجاز پلیٹ فارم پر لیک ہو چکا ہے، تو انہیں فوری طور پر اپنے قریبی نادرہ سینٹر سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے قانونی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
مزید برآں، نادرہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مشکوک کالز یا پیغامات کا جواب نہ دیں جو خود کو نادرہ کا نمائندہ ظاہر کر کے آپ سے او ٹی پی (OTP) یا پاس ورڈ مانگتے ہیں۔ نادرہ کبھی بھی فون کال پر شہریوں سے ان کا پاس ورڈ یا خفیہ کوڈ نہیں مانگتا۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کی رازداری کو ہر ممکن طریقے سے برقرار رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی سے محفوظ رہا جا سکے۔