LIVE
Loading Breaking News...

پرسی فوسیٹ کی ایمیزون مہم اور گمشدہ شہر زی کا معمہ

News Image
برطانوی مہم جو پرسی فوسیٹ نے بیسویں صدی کے اوائل میں ایمیزون کے گھنے جنگلات میں ایک قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کی تلاش شروع کی تھی۔ یہ پراسرار مہم جوئی آج بھی تاریخ کے سب سے بڑے معمہوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے جس میں فوسیٹ خود ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہو گئے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں ایک برطانوی فوجی اور ماہرِ جغرافیہ، پرسی فوسیٹ نے ایمیزون کے گھنے اور ناقابلِ عبور جنگلات کے بارے میں ایک ایسی تھیوری پیش کی جس نے دنیا بھر کے محققین کو حیران کر دیا۔ فوسیٹ کو پختہ یقین تھا کہ برازیل کے ان خطرناک جنگلات کی گہرائیوں میں ایک قدیم، انتہائی ترقی یافتہ اور وسیع تہذیب کے آثار موجود ہیں، جسے انہوں نے 'شہرِ زی' (City of Z) کا نام دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ شہر کسی عام بستی کی طرح نہیں بلکہ سونے، چاندی اور عظیم فن تعمیر کا مرکز تھا۔ اپنی اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے برسوں پرانے مخطوطات کا مطالعہ کیا اور مقامی قبائل سے ملنے والی معلومات کو اکٹھا کیا تاکہ اس پراسرار مقام تک پہنچا جا سکے۔ پرسی فوسیٹ کی یہ مہم محض ایک تجسس نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ کئی بار ایمیزون کے جنگلات میں داخل ہوئے اور وہاں کے مقامی باشندوں کی روایات اور داستانوں میں اس کھوئے ہوئے شہر کے اشارے تلاش کیے۔ ان کے لیے یہ ایک ایسا چیلنج تھا جسے وہ ہر صورت جیتنا چاہتے تھے، حالانکہ ان کے ساتھ جانے والے ساتھیوں کو بیماریوں، قحط اور جنگلی جانوروں کے خطرات کا مسلسل سامنا تھا۔ ان کی ڈائریوں اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، لیکن جیسے جیسے وہ تہذیب کی تلاش میں آگے بڑھتے گئے، جنگل کی گہرائیاں ان کے لیے ایک بھول بھلیاں ثابت ہوئیں۔ سن 1925 میں پرسی فوسیٹ اپنے بیٹے جیک فوسیٹ اور ایک قریبی ساتھی رالی کریمیل کے ہمراہ ایمیزون کے نامعلوم خطے میں روانہ ہوئے۔ یہ ان کی آخری مہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں لوٹے۔ ان کی گمشدگی کے بعد دنیا بھر سے درجنوں امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں لیکن نہ تو ان کا سراغ ملا اور نہ ہی ان کی لاشیں مل سکیں۔ ان کی گمشدگی نے ایک ایسے معمہ کو جنم دیا جس پر آج بھی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے محض ایک افسانہ مانتے ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ فوسیٹ نے واقعی کسی ایسی قدیم تہذیب کو دریافت کر لیا تھا جس کا علم آج کے جدید انسان کو نہیں ہے۔ آج کے جدید دور میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور لیڈر (LiDAR) اسکیننگ کی مدد سے ایمیزون میں قدیم بستیوں کے آثار ملنا شروع ہوئے ہیں، جس سے بہت سے ماہرین یہ ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ پرسی فوسیٹ کا نظریہ مکمل طور پر غلط نہیں تھا۔ اگرچہ 'شہرِ زی' کا وجود آج بھی ایک معمہ ہے، لیکن فوسیٹ کی یہ ہمت اور جستجو تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن چکی ہے۔ ان کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین پر اب بھی ایسے بہت سے راز پوشیدہ ہیں جو انسانی عقل اور ٹیکنالوجی کی پہنچ سے دور ہیں اور شاید آنے والے وقتوں میں ہی ان کا انکشاف ممکن ہو سکے۔