LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کے جدید ڈرون اور روسی علاقوں پر حملوں کی حکمت عملی

News Image
یوکرین کی معروف ڈرون ساز کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوجی طاقت ہی سفارت کاری کا اصل راستہ ہے۔ کیف اب روس کے اندر گہرے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔
یوکرین کی صف اول کی دفاعی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ کیف نے اس سخت حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت ایک ناگزیر پیشگی شرط ہے۔ یوکرین اب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے مستحکم کر رہا ہے تاکہ روسی سرزمین کے اندر موجود اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ اقدام یوکرین کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ روسی فوج کی رسد اور تنصیبات کو براہ راست نقصان پہنچا کر جنگ کا پانسہ پلٹنا چاہتا ہے۔ کمپنی کے سربراہ کے مطابق، یہ ڈرونز نہ صرف کفایت شعار ہیں بلکہ ان کی درستگی بھی بے مثال ہے، جس کی بدولت یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائلوں کے متبادل کے طور پر ان کا مؤثر استعمال کر رہا ہے۔ اس ڈرون پروگرام کے پیچھے کام کرنے والے انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید طیارے یوکرین کی جنگی ضروریات کے مطابق خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان ڈرونز کی تیاری میں جدید مصنوعی ذہانت اور جی پی ایس نیویگیشن کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ روسی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے یہ گہرے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی دفاعی صنعت کو خود مختار بنانے کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ ماضی میں یوکرین غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا، لیکن اب مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیار جنگی میدان میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوکرین کی یہ 'ڈرون ڈپلومیسی' دراصل روس پر نفسیاتی اور عسکری دباؤ بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔ جب روس کے اندرونی علاقوں میں حملے ہوتے ہیں، تو اس سے نہ صرف روسی عسکری مشینری کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ماسکو کو یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ جنگ کے اثرات اب ان کی سرحدوں کے اندر تک پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ روس بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن یوکرین کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے ڈرون پروگرام کا دائرہ کار اور ٹیکنالوجی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید جدید ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈرون ٹیکنالوجی ہی جدید جنگوں کا اصل مرکز ہوگی۔ آخر میں، یوکرین کا یہ عزم کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، اس جنگ کے طویل مدتی اثرات کو واضح کرتا ہے۔ عالمی برادری اب یوکرین کی اس تکنیکی ترقی کو غور سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ سستے ڈرونز بھی جدید میزائل سسٹمز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یوکرین کے ڈرون ساز ادارے اب بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، تاکہ روس کے خلاف اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔