World
ایران: صحافت کا قومی یکجہتی میں کلیدی کردار
ایران کی اعلیٰ قیادت نے ملکی سالمیت کے خلاف لڑی گئی جنگوں میں صحافیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے کردار کو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف اپنے عزائم میں ناکام رہے ہیں۔
ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حال ہی میں ملک پر مسلط کردہ جنگوں اور کشیدہ صورتحال کے دوران صحافیوں کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے میں ہمدردی، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں حقائق تک عوام کی رسائی کو یقینی بنانا صحافیوں کی ایک بڑی ذمہ داری ہے جسے وہ پوری تندہی سے نبھا رہے ہیں۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا کام محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ قوم کو متحد رکھنے اور ان کے حوصلوں کو بلند رکھنے کے لیے ایک موثر ذریعہ ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ملکی دفاعی نظام مضبوط ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا میں گردش کرنے والی خبریں کہ اسرائیل امریکہ کی مدد کے بغیر بھی ایران پر حملہ کرنے کا آپشن کھلا رکھے ہوئے ہے، صرف پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔
تہران کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے صحافیوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک پر مسلط کردہ جنگوں کے اثرات کو زائل کرنے اور عوام کو بیرونی سازشوں سے آگاہ رکھنے کے لیے صحافتی برادری کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے قومی یکجہتی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔
آخر میں، مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے صحافیوں کی اہمیت پر یہ زور دینا دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اندرونی استحکام کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی سطح پر اپنے بیانیے کو مضبوط بنانا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کی پالیسیاں خطے میں امن کے لیے ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اور دھمکیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔