LIVE
Loading Breaking News...

امریکی خارجہ پالیسی اور ٹرمپ کے ایران کے ساتھ مسائل

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے شدید خارجہ پالیسی چیلنجز کا سامنا ہے جس کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے اقتدار کی نئی مدت کے آغاز میں ایک ایسے مشکل ترین سفارتی اور عسکری بحران کا سامنا ہے جو براہِ راست ایران سے متعلق ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکی ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کا یہ تناظر نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر رہا ہے، اور ٹرمپ کے پاس فی الحال کوئی ایسی حکمت عملی نہیں ہے جو اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کر سکے۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے پالیسی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کے گرد گھومتی ہے، تاہم ماضی کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ حکمت عملی تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بجائے مزید مزاحمت پر مجبور کرتی ہے۔ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنایا ہے اور علاقائی پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے براہِ راست کسی بھی عسکری مداخلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اب اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ آیا وہ تہران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرے یا کسی ایسی جنگ کی طرف قدم بڑھائے جس کا انجام بہت تباہ کن ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے درمیان ایران کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کچھ حلقے سخت گیر مؤقف اپنانے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ فوجی کشیدگی امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی جس سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔ ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے امریکہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ٹرمپ کو اب ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہے جو ان کی پوری خارجہ پالیسی کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔ آخرکار، یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ اپنی اس 'ایران ڈائلما' سے کیسے باہر نکلتے ہیں۔ اگر وہ کوئی سفارتی راستہ اختیار نہیں کرتے، تو خطے میں کشیدگی کا پارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جو بالآخر عالمی امن کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے ملنے والے ردعمل اور امریکی انتظامیہ کی حکمت عملی کے درمیان کا یہ فاصلہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ متعین کرے گا، اور بظاہر یہ ایک ایسی جنگ لگ رہی ہے جس کا اختتام فی الحال کسی کو معلوم نہیں۔