Pakistan
فن تعمیر میں شاگردی کی روایت کا خاتمہ | جدید آرکیٹیکچر کا بحران
عمارت سازی اور فنِ تعمیر کے شعبے میں روایتی استادی اور شاگردی کا نظام تیز رفتاری سے ختم ہو رہا ہے، جس کی جگہ مکمل طور پر اکادمی تعلیم نے لے لی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی تربیت اور تجربہ کار معماروں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع کم ہونے سے نچلی سطح پر مہارت کی منتقلی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فنِ تعمیر کا شمار دنیا کے ان قدیم اور معزز پیشوں میں ہوتا ہے جن کی بنیادی روح استادی اور شاگردی کے مضبوط رشتے پر قائم رہی ہے۔ ماضی میں ایک نوآموز معمار کسی ماہر استاد کی زیرِ نگرانی برسوں تک عملی کام سیکھتا تھا، جہاں اسے نہ صرف نقشہ نویسی بلکہ مواد کے صحیح انتخاب، ساخت کے استحکام اور مقامی ثقافت و ماحول سے ہم آہنگی کے باریک نکات بھی سکھائے جاتے تھے۔ تاہم، موجودہ جدید دور میں یہ روایتی نظام تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اور اس کی جگہ مکمل طور پر یونیورسٹیوں اور ڈگری پروگراموں نے لے لی ہے، جس کی وجہ سے عملی اور روایتی مہارتوں کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اگرچہ جدید تعلیمی اداروں نے آرکیٹیکچر میں سائنسی، ڈجیٹل اور جدید سافٹ ویئر کے استعمال کو فروغ دیا ہے، لیکن اس عمل میں ہاتھ سے کام کرنے کا ہنر اور میدان میں درپیش عملی مسائل کو سمجھنے کا جذبہ کمزور ہوا ہے۔ ایک زمانے میں استاد معمار اپنی تحویل میں شاگرد کو عمارت کی بنیاد رکھنے سے لے کر حتمی تزئین و آرائش تک کے ہر مرحلے سے گزارتا تھا، جس سے شاگرد میں فیصلہ سازی کی صلاحیت اور روایتی کاریگری کی گہری سمجھ پیدا ہوتی تھی۔ اب یہ رابطہ محدود ہو کر محض چند ہفتوں کی رسمی انٹرن شپ تک رہ گیا ہے، جو کسی بھی طالب علم کو آرکیٹیکچر کی پیچیدگیوں سے مکمل طور پر آراستہ کرنے کے لیے ناافی ہے۔
اس نظام کی نزولی کے اثرات ہماری جدید عمارتوں اور شہری خدوخال پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ قدیم تاریخی عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے کاموں میں اب ایسے ماہرین کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے جو روایتی تعمیری طریقوں، گارے اور پتھر کے استعمال اور قدیم نقاشی کو سمجھتے ہوں۔ جدید معمار نظریاتی طور پر تو مضبوط ہوتے ہیں لیکن روایتی کاریگروں اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے کے عملی تجربے سے اکثر محروم نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے فنِ تعمیر کی مقامی اور ثقافتی پہچان کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان تعاون کو دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا، تاکہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ روایتی شاگردی کے نظام کو بھی بحال کیا جا سکے۔ صرف ڈگری کی فراہمی کے بجائے نوآموز آرکیٹیکٹس کو نامور ماہرین کی سرپرستی میں طویل مدتی عملی تربیت کی فراہمی کو لازمی قرار دینا ہوگا، تاکہ فنِ تعمیر کا ہنر، روایتی خوبصورتی اور پائیداری اگلی نسلوں تک صحیح معنوں میں منتقل ہو سکے۔