LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان ترکیہ سعودی عرب دفاعی معاہدہ: مصر کی شمولیت کے امکانات پر ترکیہ کا بڑا بیان

News Image
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انکشاف کیا ہے کہ تکنیکی امور حل ہونے کے بعد مصر بھی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ' نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر بنایا گیا ہے جو رکن ممالک کے اجتماعی دفاع کی ضمانت دیتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ہفتے کے روز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے میں کچھ تکنیکی امور حل ہونے کے بعد مصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصر تمام اہم معاملات پر ہمارا قدرتی شراکت دار ہے اور مجھے کامل یقین ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ اتحادیوں جیسا برتاؤ کر رہے ہیں اور جیسے ہی تکنیکی مراحل مکمل ہوں گے، مصر کے اس معاہدے کا حصہ بننے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعہ کے روز سعودی شہر مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ' طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت اور جارحیت کی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کی رو سے کسی بھی ایک رکن ملک پر ہونے والے حملے کو تمام معاہدین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے اس معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے معروف 'آرٹیکل 5' کی طرز پر قائم کیا گیا ہے جو کہ باہمی دفاع کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ہاکان فیدان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی طرز پر مکہ دفاعی معاہدے میں بھی عمومی عزم ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی عملی نفاذ کاری کا انحصار متعلقہ اداروں کے فیصلے اور مشاورت پر ہوگا۔ اگر کسی رکن ملک کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ امداد کی درخواست کرے گا اور اس کی نوعیت کا تعقّب کیا جائے گا۔ یہ امداد انٹیلی جنس، لاجسٹکس، گولہ بارود سے لے کر ضرورت پڑنے پر فوجی دستوں کی فراہمی تک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اتحاد خطے کے کسی خاص ملک جیسے کہ ایران کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف ان تینوں ممالک کی سلامتی کی حفاظت کرنا ہے۔