Entertainment
شاک ورٹائزنگ اور جعلی تنازعات: ڈیجیٹل میڈیا میں غصے کی معیشت اور وائرل پروپیگنڈا
جدید ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں توجہ حاصل کرنے کے لیے جعلی تنازعات اور سنسنی خیز اشتہار کاری کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنے وائرل میمز سے لے کر ڈرامائی پبلیسٹی اسٹنٹ تک، سوشل میڈیا الگورتھم صارفین کی جذباتی تسکین اور وائرل ہائپ سے اربوں ڈالر کا کاروبار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اڈولف ہٹلر کو فینٹا کا کین پیتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ وہ غصے میں 'آئی ہیٹ جوس' کا نعرہ لگا رہا تھا۔ اگرچہ کین کی رنگت، فونٹس اور لوگو پرانے اور جعلی محسوس ہو رہے تھے، مگر لاکھوں صارفین نے اسے سچی اشتہاری مہم سمجھ کر شدید آن لائن بحث شروع کر دی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری موجودہ میڈیا انڈسٹری میں 'شاک ورٹائزنگ' یعنی سنسنی خیز اور صدمہ پہنچانے والی اشتہار کاری کو کس قدر عام بنا دیا گیا ہے۔ شاک ورٹائزنگ کا مقصد مصنوعات کی خصوصیات بتانے کے بجائے اخلاقی یا سماجی حدود کو توڑ کر خوف، نفرت یا حیرت جیسے جذبات کے ذریعے لوگوں کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کروانا ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر اس قسم کے ہتھکنڈے 1960ء کی دہائی میں تمباکو نوشی کے خلاف سرکاری مہمات میں استعمال کیے گئے تھے، جہاں سگریٹ کے پیکٹوں پر پھیپھڑوں کی خوفناک تصاویر چھاپی جاتی تھیں۔ تاہم بعد میں بنٹن، گوچی اور ٹام فورڈ جیسے عالمی فیشن برانڈز نے اسے تجارتی فائدے اور مفت پبلیسٹی کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ حکمت عملی 'غصے کی معیشت' (Outrage Economy) میں بدل چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم سچائی کے بجائے سنسنی اور عوامی غصے کو زیادہ فروغ دیتے ہیں، کیونکہ تنازعات سے وائرل ٹریفک اور کلکس میں اضافہ ہوتا ہے جسے بعد میں اشتہاری رقم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی اس رجحان کی حالیہ مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب معروف کامیڈین اور ہوسٹ تابش ہاشمی کی جیو ٹی وی شو سے علیحدگی کی خبریں پھیلیں۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہ گرم ہو گئی کہ آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل پر متنازع گفتگو کی وجہ سے تابش ہاشمی کو شو سے نکال دیا گیا ہے۔ عوام نے بغیر کسی تصدیق کے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور آن لائن میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک ڈرامائی پبلیسٹی اسٹنٹ یا ہتھکنڈا تھا، کیونکہ شو کے سیٹ کو نیا ڈیزائن دیا جا رہا تھا اور تابش کو کبھی شو سے نکالا ہی نہیں گیا تھا۔
جب اس جعلی ڈرامے سے پردہ اٹھا تو بہت سے صارفین کو خود پر شرمندگی محسوس ہوئی، مگر میڈیا اور برانڈز جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں جذبات پر مبنی فوری ردعمل دینا ہی عام صارف کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ حقیقت پر مبنی تجزیے کے بجائے اب سنسنی خیزی کو ترجیح دی جاتی ہے، اور عوامی غصے کو بانیانِ پلیٹ فارم ایک منافع بخش تجارتی ماڈل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جب تک صارفین سوشل میڈیا پر ملنے والی ہر خبر کی تحقیق کرنے کی عادت نہیں اپنائیں گے، تب تک وہ اس جعلی غصے کی معیشت کے ہاتھوں ایندھن بنتے رہیں گے۔