Business
افریقہ میں مقامی سولر صنعت کی پیشرفت اور چین پر انحصار کا چیلنج
افریقی ممالک نے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے مقامی سطح پر سولر پینل بنانے کی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سولر مارکیٹ پر چین کا زبردست تسلط افریقہ کی ان کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
نیروبی: افریقہ کی بڑی معیشتوں نے اپنے ہاں شمسی توانائی کے آلات اور سولر پینلز کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے منصوبوں میں تیزی لا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنا، مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور بیرون ملک سے آنے والے سامان پر انحصار کم کرنا ہے۔ افریقی ماہرین اور صنعت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر براعظم کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اسے محض غیر ملکی سولر ٹیکنالوجی کا خریدار بننے کے بجائے خود پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہوگی۔ اس وقت کینیا، نائجیریا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں مقامی مینوفیکچرنگ کے قیام پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ اس تمام تر کوششوں کے باوجود عالمی سولر مارکیٹ میں چین کا گہرا اثر و رسوخ افریقی صنعت کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ چین اس وقت دنیا میں سولر پینلز، سیلز اور ان کے بنیادی خام مال کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے انتہائی ارزاں قیمتوں پر تیار کردہ سولر پینلز افریقی منڈیوں میں بڑی تعداد میں برآمد کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر بننے والے پینلز کے لیے قیمت کے مقابلے میں ٹکنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق افریقی حکومتوں کو اپنی مقامی سولر انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت پالیسیاں، رعایتیں اور ٹیکس میں چھوٹ دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بین الاقوامی شراکت داری بھی ضروری ہے۔ افریقہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنے لاکھوں شہریوں کو سستی اور جلد بجلی کی فراہمی یقینی بنائے اور دوسری طرف طویل المدتی معاشی فائدے کے لیے مقامی صنعت کی حفاظت کرے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر افریقی ممالک آپس میں مل کر علاقائی تجارتی معاہدوں کے تحت سولر پارکس اور مینوفیکچرنگ زونز قائم کریں تو وہ پیداواری لاگت میں کافی حد تک کمی لا سکتے ہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا افریقہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سستی مصنوعات کے فائدے اٹھاتے ہوئے اپنی خود مختار سولر انڈسٹری قائم کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا وہ مسلسل چین کی فراہم کردہ مصنوعات کا محتاج رہے گا۔