LIVE
Loading Breaking News...

پریویئس نیکسٹ نے ڈروپل کے اوپن فیوچر منشور پر دستخط کر دیے

News Image
معروف ویب ڈیولپمنٹ کمپنی پریویئس نیکسٹ نے کھلے عام اوپن سورس ٹیکنالوجی کی حمایت کرتے ہوئے ڈروپل کے منشور پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس قدم کا مقصد بند پلیٹ فارمز کے مقابلے میں اوپن سورس کو ویب کا حقیقی اور محفوظ مستقبل بنانا ہے۔
آسٹریلیا کی نامور ویب ڈیولپمنٹ ایجنسی پریویئس نیکسٹ (PreviousNext) نے باضابطہ طور پر "ایک کھلے مستقبل کے لیے منشور" (A Manifesto for an Open Future) پر اپنے دستخط کر دیے ہیں۔ اس منشور پر دستخط کرنے کے بعد پریویئس نیکسٹ ان 15 سے زائد عالمی ڈروپل ایجنسیوں کے بانیوں اور رہنماؤں کی صف میں شامل ہو گئی ہے جو اوپن سورس ٹیکنالوجی کو مستقبل کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بند پلیٹ فارمز اور ملکیتی سسٹمز کے بجائے اوپن سورس سسٹمز ہی جدید ڈیجیٹل دنیا کی بقا اور ترقی کے ضامن ہیں۔ پریویئس نیکسٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2009 میں کمپنی کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے ہی انہوں نے ڈروپل جیسے کھلے سورس پر مبنی سسٹمز پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس منشور پر دستخط کرنے کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ویب ٹیکنالوجی کو چند بڑی ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داری سے آزاد ہونا چاہیے۔ اوپن سورس سسٹمز صارفین اور ڈیولپرز کو نہ صرف کنٹرول اور لچک فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ڈیٹا کی خودمختاری اور تحفظ کے حوالے سے بھی نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کمپنی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جب بہت سی کمپنیاں کلاؤڈ سسٹمز اور بند الگورتھم کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، ایسے میں شفافیت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈروپل کا یہ نیا منشور دنیا بھر کے ٹیکنالوجی ماہرین اور ایجنسیوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہا ہے جہاں وہ مل کر ڈیجیٹل سیکیورٹی، جدت اور آزادانہ اشتراکِ عمل کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ اس منشور سے جڑ کر پریویئس نیکسٹ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اوپن سورس کمیونٹی کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر بڑی ویب ایجنسیوں کا ایک ساتھ مل کر منشور پر دستخط کرنا اوپن سورس ایکو سسٹم کے لیے ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈروپل کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ دیگر ڈیولپرز اور کمپنیوں کو بھی اوپن سورس پلیٹ فارمز کا انتخاب کرنے کی ترغیب ملے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مزید عالمی ایجنسیاں بھی اس منشور کا حصہ بن کر اوپن سورس مستقبل کی جانب پیش قدمی کریں گی۔