World
گجرات میں غیر فعال چیریٹیبل ٹرسٹ کی اصلاحات: مہاراشٹر ماڈل پر کام شروع
بھارتی ریاست گجرات نے غیر فعال اور ناکارہ چیریٹیبل ٹرسٹ سے نمٹنے کے لیے مہاراشٹر کے قانونی اور تکنیکی ماڈل کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی ٹرسٹ کے قوانین میں ترمیم کر کے فلاحی اداروں کی نگرانی اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔
بھارتی ریاست گجرات کی حکومت نے ریاست میں قائم تقریباً ایک لاکھ غیر فعال اور غیر کارآمد چیریٹیبل ٹرسٹ سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گجرات حکومت پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے قانونی اور تکنیکی اصلاحاتی ماڈل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ فلاحی اداروں کے نظم و نسق کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور عوامی ٹرسٹ کے قوانین میں ضروری ترمیم لائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق گجرات میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ کے قریب ایسے ٹرسٹ رجسٹرڈ ہیں جو طویل عرصے سے کسی قسم کی فلاحی سرگرمیوں میں مصروف نہیں ہیں یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ ان تمام غیر فعال اور بلا جواز قائم اداروں کی وجہ سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر ان ٹرسٹ کی چھان بین کی جائے اور ان کا ڈیٹا بیس اپ ڈیٹ کیا جائے تو فلاحی شعبے میں شفافیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
مہاراشٹر نے حال ہی میں اپنے ٹرسٹ ڈائریکٹوریٹ میں وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن اور قانونی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کی مدد سے غیر فعال اداروں کی نشان دہی اور ان کی رجسٹریشن کی منسوخی کو آسان بنایا گیا ہے۔ گجرات کے حکام مہاراشٹر کے اس ڈیجیٹل پورٹل، ای-گورننس فریم ورک اور قانونی طریقہ کار کا گہرا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ گجرات پبلک ٹرسٹ ایکٹ میں مطلوبہ ترمیم کر کے ایک مؤثر نظام وضع کیا جا سکے۔
اس مجوزہ قانون سازی اور تکنیکی پیش رفت کا بنیادی مقصد تمام رجسٹرڈ ٹرسٹ کے لیے سالانہ رپورٹ اور آڈٹ کھاتے جمع کرانا لازمی بنانا ہے۔ جو ادارے ان قوانین کی پاسداری نہیں کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف بوگس اداروں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں فلاحی کام کرنے والے اداروں کو بہتر سہولیات اور حکومتی سرپرستی میسر آئے گی۔