Business
چین کی نجی دولت اور امیر ترین افراد کی تفصیلات پر تازہ رپورٹ
ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چین کی نجی دولت کا بڑا حصہ دارالحکومت بیجنگ اور معاشی مرکز شنگھائی میں مرکوز ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے انتہائی امیر خاندانوں کی تعداد میں معمولی کمی کے باوجود اہم شہروں کا دباؤ اور مرکزیت برقرار ہے۔
چین میں جاری معاشی تبدیلیوں کے باوجود ملک کی مجموعی نجی دولت کا ایک بڑا حصہ اب بھی چند بڑے شہروں تک محدود ہے۔ ایک تازہ ترین معاشی رپورٹ کے مطابق چین کے ایک چوتھائی سے زائد الٹرا ویلتھی یعنی انتہائی امیر افراد دارالحکومت بیجنگ اور معاشی مرکز شنگھائی میں مقیم ہیں۔ ان شہروں میں طویل عرصے سے ملک کے بڑے تجارتی اور مالیاتی مراکز قائم ہیں جن کی وجہ سے امیر ترین طبقہ انہی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سو ملین یوآن یعنی تقریباً چودہ اشاریہ آٹھ ملین امریکی ڈالر سے زائد اثاثے رکھنے والے خاندانوں کی تعداد میں چینی میگا سسٹیز کے اندر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ عالمی معاشی سست روی، جائیداد کے شعبے میں درپیش مشکلات اور مختلف صنعتی شعبوں پر آنے والے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس معمولی کمی کے باوجود چین کی نجی دولت کی مرکزیت بنیادی طور پر تین اہم خطوں بیجنگ، شنگھائی اور جنوبی گوانگ ڈونگ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں سرکاری سطح کے بڑے ادارے، تکنیکی کمپنیاں اور پالیسی ساز ادارے موجود ہیں، جبکہ شنگھائی چین کا بنیادی مالیاتی و تجارتی محور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمائے کی آمد اور سرمایہ کاروں کی توجہ انہی شہروں کی جانب مرکوز رہتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے دیگر صوبوں اور چھوٹے شہروں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششیں کی ہیں، لیکن مالیاتی عدم مساوات اور دولت کا چند شہروں میں جمع ہونا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے اندر نجی شعبے اور املاک سے وابستہ افراد کی مجموعی مالیت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود، ان اہم ترین شہروں کی معاشی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ آنے والے سالوں میں چین کی اقتصادی پالیسیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا یہ دولت دیگر خطوں میں منتقل ہو سکے گی یا بیجنگ اور شنگھائی کا یہ معاشی غلبہ اسی طرح برقرار رہے گا۔