Business
مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری: بینک یا این بی ایف سیز؟ ڈی ایس پی کی اہم تجزیاتی رپورٹ
ڈی ایس پی میوچل فنڈ کی پریتی آر ایس نے ہندوستانی مالیاتی شعبے کے حوالے سے مثبت امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط ڈپازٹ فاؤنڈیشن اور بہتر انتظامی کارکردگی کے حامل ادارے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
ڈی ایس پی میوچل فنڈ کی سینئر ماہر پریتی آر ایس نے ہندوستانی مالیاتی شعبے کے مستقبل کے حوالے سے اپنے مثبت اور پرامید نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مالیاتی مارکیٹ کے ان اداروں کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں جن کے پاس مضبوط ڈپازٹ فرنچائزز، ڈسپلن شدہ انڈر رائٹنگ اور بہترین انتظامی کارکردگی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی اداروں کا نظم و ضبط اور رسک مینجمنٹ ہی انہیں موجودہ معاشی حالات میں مستحکم رکھ سکتی ہے۔ پریتی آر ایس کے مطابق کریڈٹ مارکیٹ میں اس وقت خردہ (ریٹیل) اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی جانب سے قرضوں کی شدید اور صحت مند طلب دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کارپوریٹ سیکٹر میں بھی قرض لینے کے رجحان میں ابتدائی بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جو مجموعی معاشی نمو کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔ اس صورتحال سے مالیاتی اداروں خصوصاً بینکوں اور غیر ملکی مالیاتی کمپنیوں کو کافی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ بینکوں اور این بی ایف سیز (غیر بنکاری مالیاتی کمپنیوں) کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جن اداروں کی رسائی سستے اور مستحکم ڈپازٹس تک ہے، وہ منافع بخش رہنے کے زیادہ اہل ہیں۔ بینکوں کے پاس ڈپازٹ اکٹھا کرنے کا قدرتی فائدہ ہوتا ہے جبکہ بہترین این بی ایف سیز اپنی خصوصی مارکیٹ اور بہتر حکمت عملی کے ذریعے ترقی کر سکتی ہیں۔ تاہم، دونوں ہی شعبوں میں سرمایہ کاری کے فیصلے ادارہ جاتی کارکردگی اور خطرات کے درست تخمینے پر مبنی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کی تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ قرضوں کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہوگا، لیکن سرمایہ کاروں کو صرف انہی اداروں کا انتخاب کرنا چاہیے جو کریڈٹ کوالٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان کے مطابق آنے والے وقت میں وہی ادارے مارکیٹ میں لیڈر بن کر ابھریں گے جو جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ بہترین انڈر رائٹنگ معیار برقرار رکھیں گے، جس سے سرمایہ کاروں کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم منافع حاصل ہو سکے گا۔