World
یوکرین کا روسی ای کامرس جائنٹ وائلڈ بیریز پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ
یوکرین نے روس کی معروف ای کامرس کمپنی 'وائلڈ بیریز' پر پابندیاں عائد کرنے اور اسے نشانہ بنانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ کمپنی روسی معیشت اور جنگی کوششوں کو مالی و لوجسٹک مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مغربی ممالک میں شاید بہت سے لوگ 'وائلڈ بیریز' (Wildberries) کے نام سے واقف نہ ہوں، لیکن روس میں یہ آن لائن ریٹیل کمپنی ایک معاشی دیو کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد 2004 میں معروف خاتون کاروباری شخصیت تاتیانا کم (Tatyana Kim) نے رکھی تھی، اور آج یہ روس کی کل آن لائن خریداری کا تقریباً ایک تہائی حصہ کور کرتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں یوکرین نے اس روسی تجارتی ادارے کو اپنے نشانے پر لے لیا ہے اور اس کے خلاف سخت بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرینی حکام اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وائلڈ بیریز محض ایک عام ای کامرس پلیٹ فارم نہیں رہا، بلکہ یہ روسی حکومت کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یوکرین کا موقف ہے کہ اس کمپنی سے حاصل ہونے والے ٹیکس اور معاشی سرگرمیاں ماسکو کی جنگی صلاحیتوں کو تقویت دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض رپورٹس کے مطابق یہ پلیٹ فارم روسی افواج کے لیے مختلف قسم کے غیر فوجی اور لوجسٹک سامان کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔
وائلڈ بیریز کی بانی تاتیانا کم روس کی امیر ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں اور ان کے روسی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ یوکرین نے مغربی اتحاد اور اتحادی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ وائلڈ بیریز اور اس کی قیادت کے خلاف مکمل معاشی پابندیاں عائد کریں تاکہ روس کی تجارتی شریانوں کو بند کیا جا سکے۔ یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ روس کی تمام بڑی کمپنیوں کو جنگی معیشت کا حصہ سمجھا جانا چاہیے اور ان پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جانا ضروری ہے۔
دوسری جانب، روسی ریٹیل سیکٹر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ وائلڈ بیریز پر پابندیوں کا اثر روس کی عام عوام پر پڑے گا، لیکن کمپنی اپنی ملکی سطح کی مضبوطی کی وجہ سے ان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تاہم، اگر بین الاقوامی سطح پر اس پر مزید سختیاں نافذ کی گئیں تو روسی ای کامرس کی صنعت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ معاملہ اب روس اور یوکرین کے درمیان جاری معاشی و سیاسی جنگ کا ایک نیا اور اہم محاذ بن کر سامنے آیا ہے۔