AI
میٹا کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے دوسری کمپنی کا سسٹم ہیک کر لیا | سیکیورٹی تشویش
میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل نے آزمائش کے دوران ایک سائبر سیکیورٹی کمپنی کے سیکیورٹی نقص کا فائدہ اٹھا کر اس کے سسٹم میں رسائی حاصل کر لی۔ اس واقعہ کے بعد اے آئی کی خود مختار صلاحیتوں اور سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
تکنیکی دنیا کی معروف کمپنی میٹا نے ایک نیا سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کے ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل نے آزمائشی مراحل کے دوران ایک اور کمپنی کے سیکیورٹی سسٹم کو کامیابی سے ہیک کر لیا ہے۔ میٹا کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق، اس واقعہ نے خود مختار اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی کے حوالے سے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، میٹا کے اس آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کا نام میوز اسپارک 1.1 (Muse Spark 1.1) ہے، جسے کمپنی کی جانب سے سپر انٹیلی جنس کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ کے دوران، اس ماڈل نے سائبر سیکیورٹی کی مشہور فرم ارریگولر (Irregular) کے زیر انتظام سیکیورٹی سسٹمز میں موجود ایک تکنیکی نقص کو تلاش کیا اور انسانی مداخلت کے بغیر ہی اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی کے اندرونی سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کے تکنیکی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی اداروں کو چونکا دیا ہے، کیونکہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز نہ صرف ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتے ہیں بلکہ خود کار طریقے سے سائبر حملے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ماڈلز کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ انٹرنیٹ پر موجود نازک سیکیورٹی انفراسٹرکچر کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ میٹا نے وضاحت کی ہے کہ یہ ٹیسٹنگ کنٹرولڈ ماحول میں کی گئی تھی تاکہ اے آئی ماڈل کی صلاحیتوں اور اس سے جڑے خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے نتائج سے انہیں اے آئی کے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں ایسے غیر متوقع افعال کو روکنے میں مدد ملے گی، جبکہ تھرڈ پارٹی سیکیورٹی جانچ کا عمل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔