Politics
آزاد کشمیر انتخابات: کوٹلی میں پرتشدد جھگڑے اور دھاندلی کے الزامات پر ایک شخص جاں بحق
آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران میرپور کے علاقے کوٹلی میں ہونے والے پرتشدد جھگڑوں اور دھاندلی کے الزامات کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ سخت سیکیورٹی کے حصار میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران کشیدہ صورتحال دیکھنے میں آئی ہے جہاں میرپور کے علاقے کوٹلی میں مختلف سیاسی گروہوں کے مابین جھگڑے اور دھاندلی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے دوران ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جس سے پورے انتخابی عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پولنگ کے اس مرحلے کے آغاز سے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی مراکز کے باہر فریقین کے مابین تلخ کلامی نے جلد ہی جسمانی تصادم کی شکل اختیار کر لی، اور بدقسمتی سے اس لڑائی کے نتیجے میں ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہو گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی۔ انتخابی عمل کے دوران اس قسم کے پُرتشدد واقعات نے سیکیورٹی انتظامات اور انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ متاثرہ خاندان اور سیاسی حلقوں کی جانب سے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اس انتخابی ماحول کے دوران دیگر سیاسی رہنماؤں کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رہنما علیم خان نے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم اور بیانات کے دوران روایتی جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ان کی جماعت کو موقع ملا تو وہ آزاد کشمیر میں حقیقی تبدیلی لائیں گے کیونکہ خطے میں خوشحالی اور ترقی کا دارومدار صرف درست سرمایہ کاری، سیاحت کے فروغ اور مخلص قیادت پر منحصر ہے۔
پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد سخت سیکیورٹی کے حصار میں ملک بھر کی طرح آزاد کشمیر کے اس اہم حلقے میں بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ انتخابی کمیشن اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نتائج کے اعلان تک تمام حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔