LIVE
Loading Breaking News...

مریم نواز کا نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی اور ستھرا پنجاب پر سخت مانیٹرنگ کا حکم

News Image
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صفائی کے عملے اور ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی لازمی بنائی جائے۔
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے 'ستھرا پنجاب' اقدام کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اپنے حالیہ احکامات میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بھی صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کو بھی صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صفائی کے امور کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس امر پر خصوصی زور دیا کہ صفائی کے شعبے سے وابستہ ورکرز اور فیلڈ عملے کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 'ستھرا پنجاب' یا دیگر صفائی مہمات کے تحت کام کرنے والے تمام ورکرز کو ان کی تنخواہیں مقررہ وقت پر اور باقاعدگی کے ساتھ ادا کی جانی چاہئیں تاکہ محنت کشوں کو کسی قسم کی مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ غریب ورکرز کی محنت کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا اور بروقت تنخواہوں کی ادائیگی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکام نے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 'ستھرا پنجاب' پروگرام کے تحت دیہی اور شہری علاقوں میں صفائی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور کچرے اٹھانے کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے ہر کونے کو صاف ستھرا بنانے کا یہ سفر بلا تعطل جاری رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غفلت برتنے والے اداروں اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا اور شہریوں کو ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے ان احکامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور باقاعدگی کے ساتھ اپنی کارکردگی کی رپورٹس اعلیٰ حکام کو پیش کریں۔