LIVE
Loading Breaking News...

سکاٹش جزیرے کا نایاب فون باکس بچانے کے لیے سترہ سو میل کا سفر

News Image
برطانیہ میں ولیم آرنلڈ نامی شہری نے سکاٹ لینڈ کے ایک دور دراز جزیرے پر واقع نایاب پبلک فون باکس کو بچانے کے لیے سترہ سو میل کا طویل چکر لگایا۔ انہوں نے اس فون باکس سے باقاعدہ کالز کرکے دیہی علاقوں میں روایتی ٹیلی فون لائنوں کی بقا کے منصوبے میں اپنا حصہ ڈالا۔
برطانیہ میں ایک انوکھا اوردلچسپ واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شہری نے سکاٹ لینڈ کے ایک دور افتادہ اور خوبصورت جزیرے پر واقع نایاب پبلک فون باکس کو بچانے کی غرض سے تقریباً سترہ سو میل کا طویل اور کٹھن چکر لگایا۔ جدید دور میں موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی عام دستیابی کے بعد دنیا بھر میں پبلک فون بوتھ یا ٹیلی فون باکسز کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاریخی اشیاء معدوم ہو رہی ہیں۔ تاہم، اس نایاب ورثے کو زندہ رکھنے اور دیہی علاقوں میں مواصلاتی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے یہ انوکھا قدم اٹھایا گیا۔ اس مہم کا حصہ بننے والے شہری کا نام ولیم آرنلڈ ہے، جنہوں نے اس تاریخی فون باکس کو بچانے کے اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر باون مرتبہ کالز کیں۔ یہ پورا اقدام دراصل دیہی اور پسماندہ علاقوں میں پرانی ٹیلی فون لائنوں اور بوتھز کو فعال رکھنے اور ان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے شروع کیے گئے ایک وسیع تر پروجیکٹ کا حصہ تھا۔ ولیم آرنلڈ کی جانب سے کی جانے والی ان کالز کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ متعلقہ حکام اور کمیونٹی اس فون باکس کی افادیت کو تسلیم کریں اور اسے بند کرنے یا ہٹانے کے بجائے محفوظ رکھیں۔ اس طویل سفر اور انوکھی مہم نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی کافی توجہ حاصل کی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ فون باکسز اکثر ایمرجنسی اور رابطہ کاری کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں جب سگنلز کی خرابی کی وجہ سے موبائل فون ناکام ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اس قسم کے روایتی مواصلاتی نظام کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے تاکہ کمیونٹیز کا رابطہ ہر وقت اور ہر حالت میں بحال رہ سکے۔ ولیم آرنلڈ کے اس اقدام کو عوام اور سماجی حلقوں کی طرف سے بے حد سراہا جا رہا ہے، جن کا ماننا ہے کہ اس طرح کی انفرادی کوششیں تاریخی ورثے کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اب امید کی جا رہی ہے کہ سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے دیگر حصوں میں بھی اس طرح کے نایاب اور تاریخی فون باکسز کو تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے ماضی سے روشناس ہو سکیں۔