World
مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے صیہونی آبادکاری یونٹس کا اعلان
اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے آبادکاری یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے۔ اس قدم سے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی توسیع میں مزید تیزی آئے گی اور فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی حیثیت متاثر ہوگی۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 627 نئے صیہونی آبادکاری یونٹس کی تعمیر کے لیے باضابطہ طور پر ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ اس تازہ اقدام کا مقصد خطے میں غیر قانونی صیہونی بستیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنا ہے، جسے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے فلسطینی علاقوں اور یروشلم کے درمیان زمینی رابطوں کو منقطع کرنے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنایا جا سکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے قبل بھی عالمی برادری نے اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ اس طرح کے توسیعی منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر رہی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی حکام نے اس نئے ٹینڈر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی حقوق پر ایک اور کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل خطے میں امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے اور طاقت کے بل بوتے پر زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے خلاف فلسطینی عوام کی طرف سے احتجاجی مظاہروں اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو فوری طور پر روکنے کے حوالے سے تاحال کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا۔