LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں راشن کارڈ پروگرام کی توسیع - رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے بڑا ریلیف

News Image
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں رجسٹرڈ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے راشن کارڈ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے اس دور میں مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی آسان فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے محنت کش اور رجسٹرڈ مزدور طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے راشن کارڈ پروگرام میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ اس فلاحی اسکیم کے فوائد نچلے طبقے تک جلد از جلد پہنچائے جا سکیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد مہنگائی سے متاثرہ غریب اور محنت کش عوام بالخصوص رجسٹرڈ مزدوروں کو مالی معاونت اور بنیادی اشیائے خوراک کی فراہمی میں ریلیف دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس توسیع کے بعد صوبے کے مزید اضلاع اور لاکھوں نئے رجسٹرڈ مزدوروں کو اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا، جس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ شفاف طریقے سے مستحقین کی فہرستیں تیار کی جائیں تاکہ صرف حقیقی اور رجسٹرڈ مزدور ہی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ راشن کارڈ کے حاملین کو مقررہ ائیر سیل ڈپو اور یوٹیلیٹی اسٹورز یا مخصوص شاپنگ پوائنٹس سے رعایتی نرخوں پر آٹا، گھی، چینی اور دیگر ضروری اشیاء مل سکیں گی۔ صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو مزدور یونینز اور عوامی حلقوں کی طرف سے بے حد سراہا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں اس طرح کے اقدامات نچلے طبقے کے لیے بہت بڑا سہارا بنتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت عوام بالخصوص محنت کش طبقے کے زندگی کے معیار کو بلند کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی اور فلاحی منصوبوں کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ محکمہ محنت اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پروگرام کے نفاذ کے لیے تمام انتظامی امور کو جلد از جلد حتمی شکل دیں۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ امدادی پیکج براہ راست صرف اور صرف حقیقی مستحق مزدوروں تک ہی پہنچ سکے۔ اس توسیع سے نہ صرف غریب خاندانوں کا مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ معاشرے میں فلاحی ریاست کے تصور کو بھی مزید تقویت ملے گی۔