LIVE
Loading Breaking News...

ان لمیٹڈ ٹیکنالوجی سسٹمز کا ڈیٹا لیک، 38 لاکھ مریضوں کا ریکارڈ چوری

News Image
ان لمیٹڈ ٹیکنالوجی سسٹمز کے ڈیٹا سینٹر پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں تین ملین سے زائد مریضوں کا ذاتی، طبی اور انشورنس کا ریکارڈ چوری ہو گیا ہے۔ کمپنی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ افراد سے رابطہ شروع کر دیا ہے۔
ان لمیٹڈ ٹیکنالوجی سسٹمز (Unlimited Technology Systems) کے ڈیٹا سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں تقریبا 3.8 ملین (اڑتیس لاکھ) ہیلتھ کیئر مریضوں کا انتہائی حساس ذاتی، طبی اور انشورنس کا ڈیٹا چوری ہو گیا ہے۔ اس سیکیورٹی بریچ نے دنیا بھر میں ہیلتھ کیئر سیکٹر کے اندر ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ ڈیجیٹل دور میں اداروں کے لیے اپنے صارفین کی معلومات کو محفوظ بنانا سب سے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیکرز نے کمپنی کے ایک کمرشل ڈیٹا سینٹر تک رسائی حاصل کی اور وہاں موجود انتہائی خفیہ معلومات کو کامیابی سے چرا لیا۔ اس چوری شدہ ڈیٹا میں مریضوں کے نام، پتے، طبی تاریخ اور انشورنس سے متعلقہ تفصیلات شامل ہیں، جن کے غلط استعمال کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ افراد کی اتنی بڑی تعداد کے پیش نظر ماہرینِ معاشیات اور سائبر سیکیورٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے حملے عام شہریوں کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سبر حملہ کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی تعاون جاری ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ ہونے والے افراد کو باضابطہ طور پر مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی سیکیورٹی کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر اور کارپوریٹ سیکٹر کو اپنے سسٹمز کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے خطرناک سائبر حملوں کو روکا جا سکے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ہیکرز روزانہ کی بنیاد پر نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں، اس لیے سائبر سیکیورٹی پر بھاری سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔