LIVE
Loading Breaking News...

کیا مردہ خانے سونے کے دانت نکالتے ہیں؟ حقیقت

News Image
مردہ خانوں میں تدفین سے قبل سونے کے دانت نکالے جانے کے بارے میں پایا جانے والا عام تصور حقیقت پر مبنی نہیں۔ یہ عمل عام طور پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے جو پیشہ ورانہ قوانین کے خلاف ہے۔
عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مردہ خانوں یا تدفین کی خدمات انجام دینے والے ادارے (مارٹیشینز) تدفین سے قبل مرنے والے افراد کے منہ سے سونے کے دانت نکال لیتے ہیں۔ تاہم، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور یہ تصور زیادہ تر افواہوں، فلموں اور فرضی کہانیوں پر مبنی ہے۔ پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق اور قوانین کے تحت ایسا کرنا سخت ترین جرم ہے اور کسی بھی صورت میں اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تاریخی پس منظر میں اگرچہ جنگی حالات، لوٹ مار یا ماضی کے کچھ غیر منظم ادوار میں لاوارث لاشوں یا قبروں کی بے حرمتی کے دوران قیمتی اشیاء نکالنے کے واقعات کی بازگشت ملتی ہے، لیکن آج کے جدید دور میں جنازہ اور تدفین کی صنعت سخت ترین ضابطوں کے ماتحت کام کرتی ہے۔ تدفین گھروں کے منتظمین اور عملے کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ قانون کی نظر سے بچ کر اس قسم کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کر سکیں۔ اگر کسی فیملی کی طرف سے خصوصی طور پر یہ درخواست کی جائے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجازت سے کسی خاص طبی یا قانونی تفتیش کا معاملہ ہو، تب ہی دانتوں یا دیگر امپلانٹس کو ہٹانے کا عمل ممکن ہوتا ہے۔ بصورت دیگر، لاش کی حرمت اور احترام کو مقدم رکھا جاتا ہے اور کسی بھی متوفی کے جسمانی اعضاء یا زیورات کو چھونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہذا، عوام الناس میں پائی جانے والی یہ سوچ کہ مردہ خانے مالی منافع کے لیے سونے کے دانت نکال لیتے ہیں، سراسر بے بنیاد ہے۔ تمام مہذب معاشروں اور قانون ساز اداروں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مرنے والے افراد کی تدفین پورے احترام کے ساتھ ہو اور ان کے لواحقین کے جذبات کا مکمل پاس رکھا جائے۔