LIVE
Loading Breaking News...

آئی آئی ٹی گوہاٹی نے پانی کے زہریلے مادوں کا پتہ لگانے کے لیے ای آئی ایجاد کر لیا

News Image
آئی آئی ٹی گوہاٹی کے محققین نے پانی کے زہریلے مادوں کی فوری نشاندہی کے لیے ایک جدید آپٹیکل سینسنگ ڈیوائس تیار کی ہے۔ یہ پورٹیبل ای آئی ڈیوائس مختلف آلودگیوں کا فوری اور درست آن سائٹ تجزیہ فراہم کرتی ہے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) گوہاٹی کے ماہرین نے پانی میں موجود خطرناک اور زہریلے مادوں کی فوری شناخت کے لیے ایک انتہائی جدید پورٹیبل ڈیوائس تیار کی ہے جسے 'ای آئی' (E-Eye) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی پانی کے معیار کو جانچنے اور پینے کے پانی کو محفوظ بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ جدید دور میں پانی کی آلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسی تناظر میں یہ ایجاد طبی اور سائنسی حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ یہ پورٹیبل آپٹیکل سینسنگ ڈیوائس پانی میں موجود ان ہیوی میٹلز اور کیمیکلز کا فوری اور درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو کینسر جیسی موذی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اس ڈیوائس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ موقع پر ہی (آن سائٹ) نتائج فراہم کرتی ہے جس کے لیے پانی کے نمونے کسی دور دراز لیبارٹری میں بھیجنے کی طویل زحمت نہیں اٹھانی پڑتی۔ اس سے پانی کے زہریلے پن کی تشخیص کا عمل نہ صرف تیز بلکہ انتہائی سستا بھی ہو جاتا ہے۔ کام کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس کیمیائی رد عمل کو ڈیجیٹل سگنلز میں تبدیل کرتی ہے، جس سے پانی میں موجود آلودگی کی درست مقدار اور نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سائنسی ایجاد سے عام شہریوں، پانی کے معیار کی نگرانی کرنے والے اداروں اور صنعتی شعبے کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ ماہرین کو یقین ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی تجارتی پیمانے پر دستیابی سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی ملے گی اور عوام کو صاف ستھرا پانی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔