LIVE
Loading Breaking News...

پارلیمانی کمیٹی کی دفاعی بجٹ بڑھانے کی سفارش

News Image
پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں موجودہ علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر دفاعی بجٹ کے کیپیٹل ہیڈ میں اضافے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ دفاعی اہلکاروں کی معذوری کی پنشن پر انکم ٹیکس استثنا کا معاملہ وزارت خزانہ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پارلیمانی امور کی ایک اہم کمیٹی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ملک کی سکیورٹی اور موجودہ علاقائی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ عالمی اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال (جی پولیٹیکل سچیچویشن) کے پیش نظر یہ انتہائی ضروری ہے کہ دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ دفاعی بجٹ کے کیپیٹل ہیڈ کے تحت ہونے والے اخراجات اور مختص کردہ رقم میں نمایاں اضافہ کیا جائے تاکہ جدید دفاعی ساز و سامان کی خریداری اور ملکی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ رپورٹ کے دوسرے اہم حصے میں وزارت دفاع کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف انتظامی اور مالیاتی امور کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دفاعی فورسز کے اہلکاروں کو ملنے والی معذوری کی پنشن پر انکم ٹیکس سے استثنا دیے جانے کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے۔ کمیٹی کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ اس معاملے کا تعلق براہ راست وزارت خزانہ کے دائرہ کار سے ہے، اس لیے اس پر حتمی فیصلہ اور عمل درآمد متعلقہ مالیاتی حکام کی مشاورت اور منظوری سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ دفاعی ماہرین نے پارلیمانی کمیٹی کی اس رپورٹ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے کیونکہ موجودہ دور میں روایتی اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرحدی سلامتی اور ملکی دفاع کو ہر ممکن طور پر ناقابل تسخیر بنانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاستی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سفارش کے بعد وزارت خزانہ اور وزارت دفاع کے حکام کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور دفاعی ضروریات کے حوالے سے مزید تفصیلی بات چیت کی جائے گی تاکہ فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔