LIVE
Loading Breaking News...

سال 2040 تک دفتر جانے کا رجحان ختم، سی ای او کی حیرت انگیز پیشگوئی

News Image
دنیا کے سب سے بڑے ورک اسپیس فراہم کرنے والے ادارے کے سربراہ نے پیشگوئی کی ہے کہ سال 2040 تک روایتی دفتر آنے جانے کا رجحان مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ نئی نسل اس بات پر حیران ہوگی کہ ماضی میں لوگ دفاتر جانے کے لیے روزانہ گھنٹوں سفر کیوں کرتے تھے۔
دنیا کے سب سے بڑے ورک اسپیس فراہم کرنے والے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ایک چونکا دینے والی پیشگوئی کی ہے کہ آنے والے چند سالوں میں روزانہ کی بنیاد پر دفاتر جانے کا روایتی رجحان تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ سن 2040 تک صبح سویرے اٹھ کر بھیڑ بھاڑ والی ٹرینوں یا سڑکوں پر گھنٹوں سفر کرنا اور پھر آٹھ گھنٹے ایک ہی ڈیسک کے سامنے بیٹھنا ایک عجیب اور پرانی روایت لگنے لگے گی۔ سی ای او نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج کل جو کمپنیاں ملازمین کو زبردستی واپس دفاتر بلانے کی پالیسیاں نافذ کر رہی ہیں، وہ وقت کے دھارے میں محض ایک عارضی رکاوٹ یا معمولی جھٹکا ہیں۔ مستقبل کا کارپوریٹ کلچر لچکدار کام کے ماحول اور ہائبرڈ ماڈل پر انحصار کرے گا، جہاں ملازمین کو فزیکل موجودگی کے بجائے ان کی کارکردگی اور نتائج کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے بچوں اور آنے والی نسل کے لیے یہ بات ناقابلِ یقین ہوگی کہ ان کے والدین روزانہ اپنے گھروں سے نکل کر گھنٹوں کا سفر طے کرکے محض ایک کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے لیے دفاتر جایا کرتے تھے۔ نئی نسل اس طرزِ عمل کو پاگل پن یا غیر ضروری زحمت کے طور پر دیکھے گی کیونکہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے گھر بیٹھے یا کسی بھی مقام سے کام کرنے کو انتہائی آسان اور پیداواری بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، ورچوئل رئیلٹی، اور جدید مواصلاتی نظام کا ہاتھ ہے جو دور بیٹھے لوگوں کو اس طرح جوڑ دیتے ہیں جیسے وہ ایک ہی کمرے میں موجود ہوں۔ ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ کمپنیاں وقت کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی اور ملازمین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اس ماڈل کو خوش اسلوبی سے اپنائیں گی، جس سے نہ صرف ملازمین کا وقت بچے گا بلکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔