LIVE
Loading Breaking News...

ملازمین کی جانب سے کام کا دکھاوا، نئی تحقیق میں اہم انکشافات

News Image
ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ 52 فیصد ملازمین نے محض یہ ظاہر کرنے کے لیے غیر ضروری پیغامات اور ای میلز بھیجے ہیں کہ وہ فعال ہیں۔ تیز رفتار جوابی دباؤ کی وجہ سے ملازمین کا توجہ مرکوز ہو کر کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
جدید دور کے دفتری کلچر میں ایک دلچسپ اور حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے جہاں ملازمین کی پیداواری صلاحیت کا اندازہ ان کے اصل کام سے زیادہ ان کی ڈیجیٹل موجودگی سے لگایا جانے لگا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 52 فیصد ملازمین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے محض یہ ظاہر کرنے یا ثابت کرنے کے لیے ای میلز اور پیغامات کے جوابات دیے ہیں کہ وہ فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے جدید کارپوریٹ کلچر پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں جہاں حقیقی کارکردگی کے بجائے دکھاوے کو اہمیت مل رہی ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملازمین پر فوری جواب دینے کا ایک مسلسل دباؤ رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کا توجہ مرکوز کر کے کام کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ جب ملازمین ہر وقت آنے والے پیغامات اور ای میلز کا فوری جواب دینے کے چکر میں رہتے ہیں تو ان کا قیمتی وقت اور ذہنی توانائی غیر ضروری سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کلچر دراصل ملازمین میں عدم تحفظ کے احساس کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ آن لائن دکھائی نہ دیے تو ان کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جائے گا۔ اس صورتحال کے کارپوریٹ اداروں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ملازمین کی ایک بڑی تعداد اس ڈیجیٹل تھکن اور دباؤ کا شکار ہو رہی ہے جسے پروفیشنل زبان میں برن آؤٹ کہا جاتا ہے۔ مسلسل ای میلز چیک کرنے اور فوری ردعمل دینے کے اس چکر میں نہ صرف معیاری کام متاثر ہوتا ہے بلکہ ملازمین کی ذہنی صحت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ کاروباری ماہرین اور مینجمنٹ کے اداروں کو اب اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی کارکردگی جانچنے کے لیے غیر لچکدار ڈیجیٹل پیمانے ختم کریں اور معیاری نتائج کو ترجیح دیں۔ آخر میں، ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپنیوں کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں ملازمین کو غیر ضروری ڈیجیٹل شور سے پاک ہو کر گہرائی کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل سکے۔ جب تک ادارے ملازمین کی حقیقی پیداوار پر توجہ نہیں دیں گے اور صرف ظاہری سرگرمیوں کا تعاقب کرتے رہیں گے، اس قسم کا فرضی کام کا رجحان بڑھتا رہے گا۔ ملازمین اور مینیجرز دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کریں تاکہ ڈیجیٹل دباؤ میں کمی لائی جا سکے اور دفتری کارکردگی کو حقیقی معنوں میں بہتر بنایا جا سکے۔