Business
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال، پاکستان میں صنعتیں اور برآمدات خطرے میں
پاکستان میں گڈز اور آئل ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی ہے۔ اس ہڑتال کے باعث کارخانوں کی پیداوار اور ملکی برآمدات کے معطل ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان میں گڈز اور آئل ٹرانسپورٹرز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا یہ اقدام ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور روزانہ کی بنیاد پر کرایوں میں نظرثانی نہ کیے جانے کے خلاف اٹھایا گیا ہے۔ اس ہڑتال کے نتیجے میں کارگو اور تیل کی سپلائی معطل ہو چکی ہے، جس سے ملک بھر کی صنعتوں کا پہیہ رکنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارخانوں کو خام مال کی فراہمی بند ہونے اور تیار شدہ مال کی برآمدی بندرگاہوں تک ترسیل رکنے سے ملکی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ برآمدکنندگان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ ملکی تجارت مزید بحران کا شکار نہ ہو۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے تمام جائز مسائل کو جلد از جلد حل کر لیا جائے گا اور اس سلسلے میں مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ اس ہڑتال کے اثرات نہ صرف بڑے صنعتی شہروں بلکہ چھوٹے کاروباری مراکز پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں اشیائے خوردونورد اور ایندھن کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر تنازع جلد حل نہ کیا گیا تو ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے اور عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاجر برادری اور معاشی ماہرین نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر کسی متفقہ حل پر پہنچیں۔