LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں خواتین کا دن اور صنفی مساوات کا حصول

News Image
جنوبی افریقہ میں 1956 کے تاریخی مارچ کو ستر سال مکمل ہو چکے ہیں جس نے خواتین کے حقوق اور سیاسی قوت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ تاہم، لاکھوں خواتین آج بھی ان تمام کامیابیوں سے پوری طرح مستفید ہونے سے قاصر ہیں۔
جنوبی افریقہ میں خواتین کے تاریخی دن کو ستر سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس موقع پر ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سن 1956 کا وہ یادگار مارچ جس نے خواتین کے حقوق اور سیاسی طاقت کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا تھا، آج بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تحریک نے اس وقت کے ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی تھی اور خواتین کی جرات مندانہ قیادت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ تاہم، ستر سال گزر جانے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ملک کی لاکھوں خواتین اب بھی ان تمام آئینی اور سیاسی کامیابیوں سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پا رہی ہیں۔ آج بھی معاشرتی سطح پر صنفی امتیاز، معاشی عدم مساوات اور روزگار کے مواقع کی کمی جیسے سنگین مسائل خواتین کے راستے کی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قانون سازی کے باوجود زمینی حقائق میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی ہے۔ حکومتی اداروں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خواتین کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ صنفی خلیج کو کم کیا جا سکے اور خواتین کو ملکی ترقی میں برابر کا حصہ دار بنایا جا سکے۔ ستر سالہ اس تاریخی سفر کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ ماضی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں، لیکن منزل ابھی دور ہے۔ جنوبی افریقہ کی خواتین کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مساوات کا حصول ایک مسلسل جدوجہد کا متقاضی ہے جس کے لیے اجتماعی کاوشیں جاری رکھنا ہوں گی۔