LIVE
Loading Breaking News...

کنگ چارلس کا 1988 کے برفانی تودے کے حادثے پر اہم بیان

News Image
برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے 1988 میں سوئٹزرلینڈ میں پیش آنے والے ہولناک برفانی تودے کے حادثے کو یاد کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا ایک انتہائی مشکل اور نزدیک سے موت کا سامنا کرنے والا لمحہ قرار دیا ہے۔
برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے حال ہی میں اپنے ماضی کے ایک خوفناک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے 1988 میں پیش آنے والے برفانی تودے کے حادثے کو یاد کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لمحہ ان کی زندگی کے انتہائی کٹھن اور خطرناک ترین لمحات میں سے ایک تھا جب انہیں موت کا سامنا کرنا پڑا۔ کنگ چارلس کے مطابق یہ واقعہ ان کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا ہے کیونکہ اس حادثے نے ان کی زندگی کے تناظر کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ 1988 کے دوران سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکیئنگ ریزورٹ کلوسترس میں پیش آیا تھا، جہاں شاہی خاندان کے افراد اور ان کے قریبی احباب موجود تھے۔ اس حادثے کے نتیجے میں برف کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک گر پڑا تھا جس کی زد میں شاہی پارٹی کے افراد بھی آ گئے تھے۔ اس ہولناک حادثے میں کنگ چارلس کے ایک انتہائی قریبی دوست میجر ہیو لنڈسے جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی بال بال بچ گئے تھے۔ اس سانحے نے اس وقت پوری برطانوی سلطنت اور بین الاقوامی میڈیا کو سوگوار کر دیا تھا کیونکہ یہ ایک غیر متوقع آفت تھی۔ کنگ چارلس نے اس پرانی یاد کو تازہ کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ موت کے منہ سے انتہائی معجزانہ طور پر واپس آئے تھے اور یہ ایک انتہائی قریب کا معاملہ تھا۔ انہوں نے اپنے دوست کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے نے انہیں قدرت کی طاقت اور زندگی کی بے ثباتی کا بھرپور احساس دلایا۔ اس قسم کے حادثات انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی کتنی مختصر اور غیر یقینی ہے، اور قدرت کے سامنے انسان کس قدر بے بس ہے۔ اس واقعے کے بعد سے کنگ چارلس اکثر مختلف مواقع پر ماحولیاتی تبدیلیوں، پہاڑی حفاظتی اقدامات اور قدرتی آفات کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ مہم جویانہ کھیلوں میں حصہ لیتے وقت حفاظتی تدابیر کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ آج بھی جب 1988 کے اس حادثے کا ذکر ہوتا ہے تو برطانوی شاہی خاندان اور عوام اس تلخ یاد کو افسردگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔