Technology
مصنوعی ذہانت اور فضلے کا تجزیہ، نئی طبی ٹیکنالوجی یا خطرہ
مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ٹیکنالوجیز انسانی فضلے کا تجزیہ کرکے صحت کے مسائل کا قبل از وقت پتا لگانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ تاہم، اس قسم کے نجی ڈیٹا کی رازداری اور طبی افادیت پر طبی ماہرین نے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب نئی اسٹارٹ اپ کمپنیاں انسانی فضلے کا تجزیہ کرنے والی ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہی ہیں۔ اس جدید رجحان کا مقصد عام افراد کو گھر بیٹھے ان کے ہاضمے اور اندرونی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنا ہے۔ صحت سے متعلق صحافیوں اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کئی پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے طبی فوائد اور نقصانات پر طویل بحث شروع ہو چکی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے تحت صارفین اپنے فضلے کی تصاویر یا نمونے ڈیجیٹل سسٹمز کو فراہم کرتے ہیں، جنہیں مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اسکین کرکے غذائی کمی، معدے کے امراض اور دیگر اندرونی مسائل کا اندازہ لگاتے ہیں۔ کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ کار لوگوں کو اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے عملی مشورے فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کا انتہائی نجی اور حساس ڈیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ ڈیجیٹل پرائیویسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی ڈیٹا کا غلط استعمال صارفین کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، طبی ماہرین نے بھی اس معاملے پر محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے یہ ٹولز باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹس اور مستند طبی معائنے کا متبادل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی بیماری کی تشخیص کے لیے ماہر ڈاکٹر کی رائے اور مستند طبی تجزیہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابتدائی رجحانات جاننے کے لیے مفید ہو سکتی ہے، لیکن اس پر مکمل انحصار کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ ریگولیٹری ادارے اس قسم کی نئی ڈیجیٹل ہیلتھ مصنوعات کے لیے کیا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ کیا صارفین اس نوعیت کے ذاتی اور حساس تجزیات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟ وقت ہی بتائے گا کہ آیا مصنوعی ذہانت کا یہ انوکھا استعمال انسانی صحت کے لیے ایک انقلاب ثابت ہوتا ہے یا محض ایک عارضی رجحان بن کر رہ جاتا ہے۔