LIVE
Loading Breaking News...

امریکی روبوٹکس انڈسٹری اور چینی روبوٹس پر پابندی کا جائزہ

News Image
وفاقی مواصلاتی کمیشن (FCC) کی جانب سے چینی ساختہ روبوٹس پر پابندی کو امریکی صنعتی پالیسی کا ایک اہم موڑ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض پابندیوں سے امریکہ اس عالمی تکنیکی دوڑ میں فتح حاصل نہیں کر سکتا۔
وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) کی جانب سے نئے چینی ساختہ ہیومن ہائیڈ اور جدید موبائل روبوٹس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ امریکی تاریخ میں صنعتی پالیسی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے گرے میٹر روبوٹکس کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے چینی ٹیکنالوجی کو محدود کرنا ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ محض حفاظتی اقدامات یا پابندیوں کے ذریعے امریکہ عالمی روبوٹکس کی اس سخت دوڑ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ عالمی مارکیٹ میں برتری برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کو مزید فعال حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ موجودہ دور میں روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا شعبہ انتہائی تیزی سے ترقی کر رہا ہے جہاں چین سمیت دیگر ممالک اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ صرف درآمدی پابندیاں لگانے سے مقامی مینوفیکچرنگ کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، نئی نسل کی تربیت کرنا اور تحقیقی اور ترقیاتی (R&D) سرگرمیوں میں اضافے کی شدید ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق، امریکی صنعتی شعبے کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پائیدار اور طویل المدتی منصوبوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھ سکیں۔