World
سپریم کورٹ جج کا بیان: ڈیپ فیکس اور سائبر اسٹالکنگ خواتین کے لیے بڑا خطرہ
سپریم کورٹ کی جج نے خواتین کو درپیش نئے سائبر خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری قانونی مدد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک کی حالیہ قانونی ترامیم کا بھی ذکر کیا جو خواتین کے لیے انصاف کے حصول کو مشکل بناتی ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ کی معزز جج جسٹس بی وی ناگرتنا نے خواتین کو درپیش جدید چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ فیکس اور سائبر اسٹالکنگ جیسے جدید مسائل اب خواتین کے لیے سنگین خطرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے ناخوشگوار اور سنگین واقعات کا شکار ہونے والی خواتین کو فوری طور پر موثر قانونی امداد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ معاشرتی اور قانونی سطح پر انصاف حاصل کر سکیں۔
خطاب کے دوران جسٹس ناگرتنا نے کرناٹک کی حالیہ قانونی ترامیم کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی، جن کے تحت ہائی کورٹ کے پہلے اپیل دائر کرنے کے دائرہ اختیار کو محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کی وجہ سے خواتین کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ اب حقائق پر مبنی معاملات میں انصاف کی تلاش کرنے والی خواتین کو شدید قانونی اور طریقہ کار کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کہ ان کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
معزز جج نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بدلتے ہوئے دور میں جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہو چکی ہے اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال خواتین کی عزت و وقار کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ڈیپ فیکس کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کو مشترکہ طور پر سخت اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور سائبر ہراسانی کے خاتمے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ متاثرہ خواتین کے لیے قانونی رسائی کو آسان بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں صنفی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور خواتین خود کو محفوظ محسوس کریں۔