LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کلین انرجی اور اہم معدنیات کی درآمدی انحصار پر رپورٹ

News Image
بھارت کی جانب سے کلین انرجی اور صاف ستھری توانائی کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ملک کو اہم معدنیات کے حوالے سے درآمدات پر منحصر بنا سکتے ہیں۔ حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق توانائی کی منتقلی کے لیے درکار تئیس میں سے پندرہ اہم معدنیات کے لیے بھارت مکمل طور پر بیرونی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔
نئی دہلی: بھارت کی جانب سے صاف ستھری توانائی اور کلین انرجی کی طرف تیزی سے منتقلی کے عمل کے دوران ایک نیا چیلنج سامنے آ رہا ہے جس کے تحت ملک کو اہم معدنیات کے لیے نئی درآمدی انحصار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) اور معروف فرم ای وائی (EY) کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اس وقت توانائی کی منتقلی کے لیے درکار کل تئیس اہم معدنیات میں سے پندرہ کے لیے مکمل طور پر بیرونی ممالک کی درآمدات پر منحصر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور اہم منرلز کی مقامی سطح پر دستیابی ناکافی ہے، جس سے مستقبل میں ان سپلائی چینز کے خلل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے گرین انرجی ٹیکنالوجیز کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، اور بھارت بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ تاہم، جب تک ملک میں ان اہم معدنیات کی تلاش، کان کنی اور ری سائیکلنگ کے شعبے میں خود کفالت حاصل نہیں کی جاتی، تب تک درآمدات پر یہ انحصار ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایک جامع حکمت عملی بنانی چاہیے تاکہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی بیرونی جغرافیائی سیاسی بحران کی صورت میں درآمدی تعطل سے بچا جا سکے۔ سی آئی آئی اور ای وائی کی اس رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر معدنیات کی سپلائی چین رکھنے والے ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور ساتھ ہی گھریلو سطح پر معدنیاتی ذخائر کی تلاش کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہوگا۔ صاف توانائی کے اہداف کا حصول صرف اسی صورت میں پائیدار ثابت ہو سکتا ہے جب ملک کی انرجی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ آنے والے برسوں میں الیکٹرک موبلٹی اور شمسی توانائی کے منصوبوں کی وسعت کے ساتھ ہی اہم معدنیات کی طلب میں مزید کئی گنا اضافے کا امکان ہے، لہذا بروقت پالیسی سازی ہی اس ممکنہ بحران کا واحد حل ہے۔