Business
مائیکل بیری وارننگ: تیل کی قیمتیں اور اے آئی کا قرضہ معیشت کے لیے خطرہ
مشہور سرمایہ کار مائیکل بیری نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور مصنوعی ذہانت کا قرضوں کا بحران مل کر عالمی معیشت کو تباہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ مالیاتی نظام کے مستقبل پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
وال اسٹریٹ کے معروف سرمایہ کار اور فلم 'دی بگ شارٹ' کے حقیقی ہیرو مائیکل بیری نے ایک بار پھر عالمی مالیاتی منڈیوں کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی صنعت میں بے تحاشا قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ایک خطرناک ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مائیکل بیری کے مطابق یہ صورتحال عالمی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال سکتی ہے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ موجودہ مالیاتی نظام اس دباؤ کو مزید کتنی دیر برداشت کر پائے گا۔ مائیکل بیری نے اپنی حالیہ رپورٹس اور بیانات میں نشاندہی کی ہے کہ جب توانائی کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو پوری معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس وقت تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچنے یا اس سے تجاوز کرنے کے خدشات کا شکار ہیں، جو افراط زر کو مزید ہوا دے گا۔ دوسری طرف مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نام پر لیے جانے والے قرضوں اور مالیاتی لیوریج میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اسمارٹ اور جدید ٹولز تیار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے لے رہی ہیں، جس سے ایک ممکنہ مالیاتی بلبلہ بننے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی یہ کمپنیاں متوقع منافع کمانے میں ناکام رہیں تو یہ قرضے واپس نہیں ہو سکیں گے، جس سے بینکاری کے نظام کو بڑا دھکا لگ سکتا ہے۔ مائیکل بیری کا یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے سرمایہ کار مہنگائی، شرح سود اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کے بحران اور اے آئی کے شعبے میں پھلنے پھولنے والے اس قرضوں کے طوفان کو بروقت نہ روکا گیا، تو آنے والے دنوں میں منڈیوں میں شدید مندی یا بڑے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو اب انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔