LIVE
Loading Breaking News...

ایس بی آئی ڈیجیٹل پیمینٹس، یونو پے اور یو پی آئی چارجز

News Image
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے موقع کو شروع میں ہاتھ سے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ اب بینک اپنی 'یونو' ایپ کو بہتر بنا کر مارکیٹ میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے چیئرمین سی ایس سیٹی نے کھل کر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بینک بروقت ڈیجیٹل پیمینٹس کے انقلاب سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ تاہم، اب بینک اپنی مقبول موبائل ایپلی کیشن 'یونو' (YONO) کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے اور مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ڈیجیٹل فنانس کا نظام تیزی سے بدل رہا ہے اور روایتی بینکوں کے لیے فِن ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بینکنگ اور فِن ٹیک کے شعبے میں اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ یونیفائیڈ پیمینٹس انٹرفیس یعنی یو پی آئی (UPI) کے ذریعے مرچنٹ ادائیگیاں جلد ہی چارجز کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اس وقت یو پی آئی کے ذریعے ہر ماہ اربوں ٹرانزیکشنز کی جارہی ہیں، جس کی وجہ سے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے اور اسے مزید وسعت دینے کا بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انفراسٹرکچر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مستقبل میں لین دین پر کچھ معمولی فیس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان بھر میں یو پی آئی کی مقبولیت نے ڈیجیٹل لین دین کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، لیکن بینکوں کے لیے اس کی لاگت اب ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ایس بی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ان کا بینک 'یونو پے' کو اس طرح سے اپ ڈیٹ کر رہا ہے کہ صارفین کو جدید ترین سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر مل سکیں اور بینک ڈیجیٹل مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی اجارہ داری واپس حاصل کر سکے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا روایتی بینک فِن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ اس مسابقت میں کس حد تک کامیاب ہو پاتے ہیں اور کیا صارفین پر اس کا کوئی براہ راست اثر پڑے گا یا نہیں۔