LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹ ٹیکسز کا بڑھتا ہوا رجحان اور مستقبل کے چیلنجز

News Image
آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس روبوٹ ٹیکسز اب دنیا کے بڑے شہروں میں عام نقل و حرکت کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان گاڑیوں کے نظام میں بعض اوقات تکنیکی مسائل سامنے آتے ہیں، لیکن کمپنیاں انہیں سفر کے دوران ہی حل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
آج کے اس جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ہماری زندگیوں میں اس حد تک داخل ہو چکی ہے کہ اب انسان اپنی جان ایک کمپیوٹر کے حوالے کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ سان فرانسسکو جیسے ترقی یافتہ شہروں میں وے مو (Waymo) جیسی خودکار روبوٹ ٹیکسز اب ایک عام اور مستند سواری بن چکی ہیں۔ ان بغیر ڈرائیور کی گاڑیوں نے سفر کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اور مسافر اب خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ ان میں سفر کر رہے ہیں۔ تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کی کامیابی کے پیچھے ایک انوکھا فلسفہ کارفرما ہے، جو 'پہلے پھیلاؤ اور مسائل بعد میں حل کرو' کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آٹونومس وہیکلز یا خودکار گاڑیوں کی صنعت اس وقت تیزی سے اسکیلنگ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ کمپنیاں اس بات کا انتظار نہیں کرتیں کہ سڑکوں پر اتارے جانے سے پہلے ہر ایک تکنیکی خامی کو مکمل طور پر دور کر لیا جائے۔ اس کے برعکس، ان کا ہدف زیادہ سے زیادہ شہروں میں اپنی سروس کا دائرہ کار بڑھانا ہے۔ جب یہ گاڑیاں روزمرہ کی بنیاد پر سڑکوں پر چلتی ہیں اور لاکھوں مسافروں کو منزل تک پہنچاتی ہیں، تو حقیقی دنیا کے حالات میں سامنے آنے والے مسائل کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران ریئل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کر کے سافٹ ویئر میں درکار تبدیلیاں اور بہتری لائی جاتی ہے۔ اس حکمت عملی کے اپنے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ طریقہ کار ٹیکنالوجی کی ترقی کو انتہائی رفتار فراہم کرتا ہے، وہیں دوسری طرف ٹریفک کے بعض ناگہانی حالات میں روبوٹ ٹیکسز کا الجھ جانا سوالیہ نشان بھی بناتا ہے۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سڑک پر کسی اچانک تبدیلی، تعمیراتی کام یا ٹریفک کے غیر معمولی رش کی وجہ سے یہ خودکار گاڑیاں رک جاتی ہیں اور پیچھے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے کمپنیوں کو فوری طور پر اپنے ریموٹ آپریٹرز کی مدد لینا پڑتی ہے جو کمپیوٹر کے ذریعے گاڑی کو اس مشکل صورتحال سے باہر نکالتے ہیں۔ مستقبل کے تناظر میں، روبوٹ ٹیکسز کا یہ ماڈل دنیا بھر میں نقل و حمل کے نظام کو ہمیشہ کے لیے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز مزید تربیت یافتہ ہوں گے اور ڈیٹا کا دائرہ وسیع ہوگا، ویسے ویسے ان گاڑیوں کی کارکردگی میں بھی نکھار آتا جائے گا۔ کمپنیاں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ حقیقی دنیا کے چیلنجز کا سامنا کیے بغیر مکمل طور پر محفوظ اور بے عیب خودکار نظام بنانا ناممکن ہے۔ اس لیے، مسائل کے ساتھ آگے بڑھنے کا یہ سفر فی الحال جاری رہے گا، جو آنے والے وقت میں نقل و حمل کے شعبے میں انقلاب برپا کر دے گا۔