LIVE
Loading Breaking News...

عالمی فوجداری عدالت اور اس کے حامیوں کا کردار - تجزیہ

News Image
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مستقبل کو لے کر عالمی سطح پر اہم بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کو اصل خطرہ بیرونی مخالفت سے زیادہ اس کے حامیوں کی عدم توجہی سے ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ آیا اس ادارے کا مستقبل خطرے میں ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے تجزیات کے مطابق، یہ تاثر عام ہے کہ اس ادارے کو سب سے بڑا خطرہ بیرونی شخصیات یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ناقدین سے ہے، جو روایتی طور پر اس عدالت کے مخالف رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت اس کے برعکس ہے اور اصل خطرہ ان قوتوں کی جانب سے ہے جو زبانی دعوے تو اس کے حامی ہونے کے کرتے ہیں مگر عملاً اس کے دفاع کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھاتے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو فعال رکھنے اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے مضبوط سیاسی اور مالیاتی پشت پناہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب اس کے مبینہ حامی ممالک یا ادارے عملی میدان میں اس کا ساتھ دینے سے کتراتے ہیں یا مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں، تو ادارے کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ ٹرمپ یا دیگر رہنماؤں کی مخالفت تو ایک کھلا چیلنج ہے جس کا مقابلہ سفارتی سطح پر کیا جا سکتا ہے، لیکن اندونی بے حسی اور خاموشی اس ادارے کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ اگر آئی سی سی کے حامی واقعی عالمی انصاف کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو انہیں محض بیانات دینے کے بجائے عملی طور پر اس کے فیصلوں کی حمایت کرنا ہوگی۔ عالمی قانون کی بالادستی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ بین برادری اس کے اداروں کو کتنا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لہذا، یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور عالمی فوجداری عدالت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں تاکہ انصاف کا یہ ادارہ غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے فرائض سر انجام دے سکے۔