Pakistan
میر رضا علی قتل کیس، سندھ پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم اور قتل کی دفعہ شامل
کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے سندھ پولیس نے ایک نئی پانچ رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ یہ اقدام دوسرے پوسٹ مارٹم کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے جس سے یہ انکشاف ہوا کہ مقتول کو پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے پچیس سالہ نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس حکام نے اس گھناؤنے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ مقدمے میں قتل کی سنگین دفعات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مقتول رضا علی جو کہ آئی بی اے کے فارغ التحصیل اور ایک ریستوران کے مالک تھے، گزشتہ ماہ اٹھائیس جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ ابتداء میں پولیس اس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی تھی تاہم لواحقین اور ان کے وکیل نے اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ٹارگٹڈ قتل اور شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔ سندھ انسپکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے مطابق، اب اس مقدمے کی تفتیش ایک پانچ رکنی اعلیٰ سطح کی ٹیم کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اس نئی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کر رہے ہیں جبکہ دیگر اراکین میں ایس ایس پی سید محمد علی رضا، ایس پی انویسٹی گیشن قیصر خان، ایس پی انویسٹی گیشن انام تاجمل اور ایس آئی او زمان ٹاؤن غضنفر شامل ہیں۔ پولیس کے جاری کردہ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیم تمام متعلقہ زاویوں سے غیر جانبدارانہ اور جامع تفتیش کرے گی اور تمام جسمانی، تکنیکی، حالات و واقعات اور فارنزک شواہد کا بغور جائزہ لے گی۔ یہ فیصلہ مقتول کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے جس نے خودکشی کے نظریے کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ لواحقین کے وکیل جبران ناصر نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ نعش کی قبر کشائی کے بعد کرائے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رضا علی کو پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی اور قتل سے قبل انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس مقدمے کی ایف آئی آر میں صرف اغوا کی دفعہ تین سو پینسٹھ درج کی گئی تھی تاہم اب اس میں قتل کی دفعہ تین سو دو اور شواہد چھپانے یا غلط بیانی کرنے سے متعلق دفعہ دو سو ایک کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کراچی کے پولیس سرجن اور محکمہ صحت کے حکام کے درمیان بھی مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے تضادات اور تنازعات سامنے آئے تھے جن کے بعد عدالت کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر نعش کی قبر کشائی عمل میں لائی گئی۔ مقتول کے اہل خانہ نے اس پوری پیش رفت کے دوران پولیس اور متعلقہ اداروں کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔ نئی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے کر جلد از جلد اپنی رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کروائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔