LIVE
Loading Breaking News...

کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ: کنٹریکٹ منسوخی کا فیصلہ غیر قانونی قرار

News Image
سندھ حکومت کی جانب سے بی آر ٹی ریڈ لائن کے موسمیات سے نمائش تک کے کنٹریکٹ کی منسوخی کو ڈسپیوٹ ریزولوشن بورڈ نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ بورڈ کے فیصلے میں نگران ادارے ٹرانس کراچی کی انتظامی صلاحیتوں پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
کراچی کے شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کے دیرینہ بحران کے حل کی امیدوں کو اس وقت ایک اور بڑا دھکا لگا ہے جب سندھ حکومت کی جانب سے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن کے ایک اہم حصے کے کنٹریکٹ کی منسوخی کے فیصلے کو غیر قانونی، نادرس اور کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈسپیوٹ ریزولوشن بورڈ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سامنے آیا ہے، جس نے فریقین کو تنازع کے حل کے لیے اس فورم سے رجوع کرنے کا کہا تھا۔ اس فیصلے نے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ذمہ دار سرکاری ایجنسی 'ٹرانس کراچی' کی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق، ایمپلائر (ٹرانس کراچی/سندھ حکومت) اور کنٹریکٹر دونوں کے لیے لازم تھا کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں عدالت جانے سے پہلے آزاد ڈسپیوٹ بورڈ سے رجوع کریں۔ سندھ حکومت نے کام میں سستی کا حوالہ دیتے ہوئے موسمیات سے نمائش تک کے 'لاٹ ٹو' نامی حصے کا کنٹریکٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے فوراً بعد تعمیراتی کمپنی 'اے ایم ایسوسی ایٹس' نے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی تھی اور صوبائی حکومت پر منصوبے کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر عدالت نے دونوں فریقین کو معاہدے کی پاسداری کرنے کا حکم دیا تھا۔ دو ماہ سے زائد جاری رہنے والی سماعتوں کے بعد ڈسپیوٹ بورڈ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ قرار دیا کہ حکومت کا کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ جلدی میں کیا گیا اور اس میں منصوبے کی پیچیدگیوں کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ بورڈ کے مطابق ٹرانس کراچی کے پاس اتنے بڑے پیمانے کے منصوبے کو سنبھالنے کے لیے نہ تو تجربہ کار پراجیکٹ مینجمنٹ موجود تھی اور نہ ہی ضروری ادارہ جاتی صلاحیت۔ شواہد سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ٹرانس کراچی پراجیکٹ کے آغاز پر اپنی بنیادی contractual ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی، ڈیزائن کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور کنٹریکٹر کو تمام رکاوٹوں سے پاک سائٹ حوالے نہیں کی گئی۔ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کنٹریکٹر کو واجب الادا رقوم کی ادائیگی میں تاخیر اور بار بار ڈیزائن تبدیل ہونے کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی۔ پراجیکٹ کنسلٹنٹس بھی مؤثر انتظامی امور چلانے اور بروقت فیصلے کرنے میں ناکام رہے۔ فیصلے کے مطابق حکومت نے کنٹریکٹ ختم کرنے سے پہلے متبادل اور کم سخت اقدامات پر غور نہیں کیا، اس لیے یہ من قبل از وقت اور غیر ضروری تھی۔ اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر اس بات کو بے نقاب کر دیا ہے کہ سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی کس طرح عوامی اہمیت کے منصوبوں کو کھٹائی میں ڈال دیتی ہے۔