LIVE
Loading Breaking News...

وزارتِ آئی ٹی کا میٹا کو الگورتھم کی بہتری اور ڈیپ فیکس کے خلاف روڈ میپ کا حکم

News Image
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے معروف ٹیک کمپنی میٹا کو اپنے الگورتھم میں اصلاحات کرنے اور ڈیپ فیکس جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ قدم آن لائن پلیٹ فارمز پر غلط معلومات اور جعلیڈیجیٹل مواد کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ پیش رفت کے تحت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے عالمی ٹیکنالوجی جائنٹ میٹا (Meta) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر موجود الگورتھم میں فوری طور پر بہتری لائے۔ وزارت نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیپ فیکس (Deepfakes) جیسے گمراہ کن اور جعلی ڈیجیٹل مواد کے تدارک کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل روڈ میپ جلد از جلد حکام کو پیش کرے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں جعلی ویڈیوز اور تصاویر کے پھیلاؤ نے سکیورٹی اور رازداری کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے پیشِ نظر حکومت نے یہ سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزارتِ آئی ٹی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ میٹا کے تحت چلنے والے مقبول پلیٹ فارمز جیسے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے ذریعے تیار کردہ مواد تیزی سے گردش کر رہا ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی اور افراد کی ساکھ کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ کمپنی ایسے سخت فلٹرز اور الگورتھمک کنٹرولز متعارف کروائے جو اس قسم کے نقصان دہ مواد کو ابتدائی مرحلے پر ہی روک سکیں۔ اس نئے حکمنامے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ میٹا کی جانب سے ڈیپ فیکس کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور وزارت کے ساتھ باضابطہ تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین نے بھی حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے آن لائن فضا کو زیادہ محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے گا۔ وزارتِ آئی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صارفین کے حقوق کا تحفظ اور ڈیجیٹل سپیس کا استحکام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔