LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ملازمین کے خدشات: ایک نیا جائزہ

News Image
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً انہتر فیصد ملازمین کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ مصنوعی ذہانت ان کی پیشہ ورانہ کمزوریوں کو ظاہر کر دے گی۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی نے کام کی جگہوں پر نئی نفسیاتی الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ایک طرف تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، وہیں دوسری طرف کارکنوں اور ملازمین کے اندر ایک نیا نفسیاتی خوف بھی جنم لے رہا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، تقریبا انہتر فیصد بالغ ملازمین اس بات سے شدید پریشان ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ان کے کام کے ان حصوں کو بے نقاب کر دے گا جنہیں وہ اچھی طرح نہیں سمجھتے یا جن میں وہ مہارت نہیں رکھتے۔ اس صورتحال نے کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کے لیے ایک نئی آزمائش کھڑی کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین کو نہ صرف اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، بلکہ یہ خدشہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی ان کی پیشہ ورانہ کمزوریوں کا پردہ چاک کر دے گی۔ روایتی طریقوں سے کام کرنے والے بہت سے افراد اے آئی ٹولز کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ سسٹمز ان کی پیداواری صلاحیت کی اصل حقیقت کو انتظامیہ کے سامنے لے آئیں گے۔ اس سے دفتروں کے اندر عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب، کاروباری رہنماؤں اور ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کا بہترین طریقہ اداروں کے اندر تربیت اور سیکھنے کے ماحول کو فروغ دینا ہے۔ ملازمین کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت انہیں ہٹانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے کام کو مزید بہتر اور آسان بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اگر کمپنیاں اپنے کارکنوں کو مناسب تربیت فراہم کریں تو اس خوف پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ٹیکنالوجی سے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔