LIVE
Loading Breaking News...

AI Data Centers Water Impact: اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور پانی کا بحران

News Image
امریکہ بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ کے خلاف مقامی کمیونٹیز نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹرز بجلی کے ساتھ ساتھ کثیر مقدار میں پانی کا استعمال کرتے ہیں جس سے مقامی آبی ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
امریکہ اور دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کا پھیلاؤ اتنی تیزی سے ہو رہا ہے کہ اب اس کے ماحول اور مقامی وسائل پر منفی اثرات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں انماد کی سی کیفیت کے ساتھ قائم ہونے والے ان مراکز کے خلاف مختلف مقامی کمیونٹیز نے سخت احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔ ان علاقوں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مداخلت ان کے مقامی ماحول اور وسائل کو تباہ کر رہی ہے۔ ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کی سب سے بڑی خامی یا مسئلہ ان کا حد سے زیادہ پانی کا استعمال ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے والے سرورز اتنی زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں کہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ پانی عموماً مقامی میونسپل واٹر سسٹمز یا قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خشک سالی کے شکار علاقوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے اور عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مقامی کسانوں، ماحولیاتی کارکنوں اور عام شہریوں کا اتحاد اب ان ٹیک کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور دھرنوں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے سخت ماحولیاتی ضابطے لاگو کرے تاکہ پانی کے وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ کمپنیوں کو بھی اب مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کی کھپت کو کم کرنے کے متبادل اور جدید طریقے تلاش کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے اس بے لگام پھیلاؤ کو فوری طور پر ماحولیاتی پائیداری کے اصولوں کے تابع نہ کیا گیا، تو آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی فراہمی کو خطرے میں ڈالنا ایک ایسا المیہ ہے جس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔