LIVE
Loading Breaking News...

فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ نکال کر گریفائٹ بنانے کا سائنسی طریقہ

News Image
سائنسدانوں نے ایک ایسا حیرت انگیز طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کی مدد سے فضا سے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو براہ راست کھینچ کر بیٹریوں میں استعمال ہونے والا گریفائٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے ماحول کو صاف کرنے اور توانائی کے ذخیرہ کے لیے درکار مواد حاصل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
سائنسی دنیا میں ایک انتہائی اہم اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ماہرینِ کیمیا نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے فضا سے خطرناک کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو براہ راست کھینچ کر اسے گریفائٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہی مواد ہے جو آج کل الیکٹرک گاڑیوں اور مختلف ڈیجیٹل آلات میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کے لیے انتہائی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نئی تحقیق نے ماحول دشمن گیس کو ایک قیمتی صنعتی مواد میں بدلنے کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اس نئے طریقہ کار کی بنیاد پگھلے ہوئے نمکیات پر رکھی گئی ہے جن کی مدد سے کاربن کو جذب کرنے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ہے۔ جب فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کو مخصوص کیمیائی مراحل سے گزارا جاتا ہے تو وہ ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہے جسے بعد میں اعلیٰ معیار کے گریفائٹ کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف بیٹری انڈسٹری کے لیے خام مال کی فراہمی کو آسان بنائے گی بلکہ فضائی آلودگی کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر وسعت دے دی جائے تو اس کے معیشت اور ماحولیات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک طرف جہاں کاربن کے اخراج کو قابو کرنے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف بیٹریوں کی پیداوار کے لیے مہنگے خام مال کی درآمد پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔ تاہم، اس وقت سائنسدان اس عمل کی لاگت کو کم کرنے اور اس کی پیداواری صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید تجربات کر رہے ہیں۔ اس تمام تحقیق کا مقصد ایک ایسے پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے جہاں صنعتیں ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ دنیا بھر میں بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر، فضا سے براہ راست کاربن حاصل کرنے کی یہ ٹیکنالوجی مستقبل کا رخ موڑنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال سے صنعتی اور ماحولیاتی شعبوں میں ایک نیا انقلاب برپا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔