Technology
نندن نیلیکانی امتحانی اصلاحات کے لیے ٹاسک فورس کے سربراہ مقرر
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انفوسس کے بانی نندن نیلیکانی کو امتحانی اصلاحات کی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ نیلیکانی اس سے قبل آدھار پراجیکٹ کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اصلاحات کا تجربہ حاصل ہے۔
نندن نیلیکانی، جو کہ نامور بھارتی آئی ٹی کمپنی انفوسس کے شریک بانی ہیں، کو حکومت ہند کی جانب سے امتحانی اصلاحات کے لیے تشکیل دی جانے والی ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نندن نیلیکانی کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد امتحانات کے انعقاد کے طریقہ کار کو بہتر بنانا اور طلباء کے لیے ایک منصفانہ ماحول فراہم کرنا ہے۔ نندن نیلیکانی کا شمار بھارت کے ممتاز تکنیکی ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے ماضی میں بھی اہم قومی پراجیکٹس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اس سے قبل یونیک آئیڈنٹیفیکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں جہاں ان کی قیادت میں بھارت کے منفرد بائیو میٹرک شناختی نظام یعنی 'آدھار' کو کامیابی کے ساتھ پورے ملک میں نافذ کیا گیا تھا۔ آدھار پراجیکٹ کی کامیابی نے انہیں عالمی سطح پر ایک بہترین منتظم اور تکنیکی رہنما کے طور پر متعارف کرایا تھا، اور اسی وجہ سے حکومت کو امید ہے کہ وہ امتحانی نظام میں بھی اسی نوعیت کی اصلاحات لانے میں کامیاب ہوں گے۔ نئی ٹاسک فورس امتحانی نظام میں حائل رکاوٹوں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور ڈیجیٹل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے اقدامات تجویز کرے گی جن سے پرچے لیک ہونے یا دیگر انتظامی خامیوں جیسے مسائل کا مستقل ازالہ ہو سکے۔ اس فیصلے کا مقصد لاکھوں طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور تعلیمی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نندن نیلیکانی کی شمولیت سے امتحانی اصلاحات کے عمل میں تیزی آئے گی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔