LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر کا ایرانی بحران اور خارجہ پالیسی کا چیلنج

News Image
امریکی صدر کو ایران کے معاملے پر طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور مبہم پالیسی پر اب واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس تنازعے کا کوئی واضح انجام دکھائی نہیں دے رہا جس سے واشنگٹن کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں امریکی قیادت کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس طویل مدتی تعطل کا کوئی بھی واضح اور یقینی انجام دکھائی نہیں دے رہا، جس کی وجہ سے امریکی انتظامیہ ایک عجیب اور مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب تک کی جانے والی مختلف کوششیں اور بیانات اس مسئلے کا حل نکالنے میں ناکام رہے ہیں اور صورتحال بدستور الجھی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل تذبذب اور پالیسی میں واضع تضاد کی وجہ سے امریکی صدر کو شدید اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ صورتحال کچھ ایسی بن چکی ہے جہاں مزید تاخیر یا لیت و لعل سے کام لینے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ایران کے معاملے پر طویل عرصے سے جاری یہ رسہ کشی نہ صرف خطے کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ امریکی سیاسی اور عسکری ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیچیدہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے واشنگٹن کو یا تو مکمل سفارتی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا یا پھر اس پالیسی کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا۔ ماضی کے بیانات اور وقتی حکمت عملیوں نے اس مسئلے کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اب یہ وقت کا تقاضا ہے کہ امریکی انتظامیہ ہوش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل طے کرے تاکہ اس لامتناہی بحران کا کوئی منصفانہ اور پرامن حل نکالا جا سکے۔