Business
سعودی عرب کی جازان آرامکو ریفائنری میں آگ پر قابو پالیا گیا
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق اتوار کی صبح جازان ریفائنری میں لگنے والی آگ کو کامیابی سے بجھا دیا گیا ہے اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے صورتحال پر مکمل قابو پا لیا ہے جبکہ متعلقہ حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کی معروف تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری میں اتوار کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر فائٹرز اور سیکیورٹی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے قابو پالیا۔ سعودی وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ناگہانی واقعے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ وزارت کے مطابق آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا۔ متعلقہ حکام اب اس واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اور تکنیکی کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں، تاہم ابتدائی طور پر آگ لگنے کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ جازان ریفائنری کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ اہم تنصیب یومیہ چار لاکھ بیرل خام تیل کی پروسیسنگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ریفائنری میں گیسولین اور الٹرا لائٹ سلفر ڈیزل سمیت ریفائنڈ مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو ملکی اور بین الاقوامی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جولائی کے اواخر میں بھی یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اس پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد کچھ دیر کے لیے ریفائنری کو بند کرنا پڑا تھا۔ ان حملوں نے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر کی سمندری نقل و حرکت کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدات کو جنم دیا تھا۔ دوسری جانب آرامکو کے چیف امین ناصر نے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے کمپنی کے مجموعی پیداواری عمل پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑا اور آپریشنز کو انتہائی کم وقت میں بحال کر لیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور اس تازه واقعے کے بعد بھی تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔