Business
ٹیرف اور امریکی معیشت: ٹویوٹا اور بڑی کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری
صدر ڈونلڈ ٹیرف کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بڑی کارپوریشنز اور عالمی کمپنیوں کی جانب سے امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیرف کے نفاذ کے معاشی حوالے سے انتہائی مثبت اور حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکی معیشت پوری طرح مستحکم ہے اور مالیاتی شعبہ بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ درآمدات پر ٹیکس یا ٹیرف عائد کرنے سے بین الاقوامی کمپنیاں امریکہ کے اندر کارخانے لگانے اور پروڈکشن یونٹس قائم کرنے پر مجبور ہوں گی، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اسی پس منظر میں جاپانی آٹوموبائل ساز ادارے ٹویوٹا سمیت دنیا بھر کی کئی بڑی صنعتی اور کاروباری دیو قامت کمپنیوں نے امریکہ میں اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے ملے جلے اثرات سامنے آ رہے ہیں، جہاں ایک طرف ملکی سطح پر فیکٹریاں لگنے سے صنعتی ترقی کو فروغ مل رہا ہے، وہیں دوسری طرف بعض اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جن پر معاشی تجزیہ کار گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے والی ان بڑی کمپنیوں کا ماننا ہے کہ یہاں کا مقامی مارکیٹ کا اسٹرکچر اور حکومتی مراعات انہیں طویل مدت میں خاطر خواہ منافع فراہم کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حمایتی اس صورتحال کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ ٹیرف کی پالیسی نے امریکی ورکرز کے حقوق اور ملکی صنعت کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ معاشی پالیسیاں طویل المدتی بنیادوں پر امریکی معیشت کو اسی رفتار سے آگے بڑھا پاتی ہیں یا نہیں۔