LIVE
Loading Breaking News...

چین میں دنیا کا سب سے بڑا بیٹری اسٹوریج نیٹ ورک فعال

News Image
چین میں دنیا کے سب سے بڑے 12.8 گیگا واٹ آورز بیٹری اسٹوریج نیٹ ورک میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کا مینجمنٹ سسٹم کامیابی سے نصب کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے قابل تجدید توانائی کے انتظام اور گرڈ کی استطاعت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
چین میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے 12.8 گیگا واٹ آورز (GWh) بیٹری اسٹوریج نیٹ ورک میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مینجمنٹ سسٹم کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ شمالی چین میں واقع اس عظیم الشان منصوبے کو گزشتہ سال فروری میں آن لائن کیا گیا تھا، اور اب اس میں جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کی شمولیت کے بعد اس کی کارکردگی اور صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ قابل تجدید توانائی کی ترقی کے حوالے سے معروف عالمی ادارے انویژن گروپ (Envision Group) نے اس منصوبے کے آخری مراحل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج کلستر کا بنیادی مقصد سورج اور ہوا سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو محفوظ بنانا اور ضرورت کے وقت اسے قومی گرڈ میں مستحکم طریقے سے شامل کرنا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق، اتنے بڑے پیمانے پر توانائی کے ذخیرہ کو منظم کرنا ایک انتہائی پیچیدہ عمل تھا، جسے اب مصنوعی ذہانت کے نظام کی مدد سے انتہائی درستگی اور کارآمد طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اے آئی سسٹم ریئل ٹائم ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے چین کے صاف توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور یہ دنیا بھر کے لیے گرڈ اسکیل انرجی اسٹوریج کے میدان میں ایک روشن مثال بن گیا ہے۔ گلوبل انرجی مارکیٹ میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف بجلی کے ضیاع کو روکے گی بلکہ صنعتوں اور عام صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید اے آئی بیسڈ انرجی پروجیکٹس دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔