World
یمن کے حوثیوں کا سعودی آرامکو پر حملہ اور جازان فائر الرٹ
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں واقع آرامکو کی تیل تنصیب پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جازان میں لگی آگ کو کامیابی سے بجھا دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر جازان میں قائم سعودی آرامکو کی تیل کی تنصیب پر ایک بار پھر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں توانائی کی اس اہم تنصیب کے قریب آگ بھڑک اٹھی جس سے خطے میں سیکیورٹی خدات کے پیش نظر ہلچل مچ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی ایک اور بڑی کڑی ہے جس نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری ذرائع اور متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جازان میں واقع آرامکو کی فیسیلیٹی میں لگنے والی آگ پر فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی بڑے جانی نقصان یا تیل کی سپلائی میں کسی طویل خلل کی کوئی اطلاع نہیں ملی، اور حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنے جانے اور توانائی کی تنصیبات کے قریب آگ لگنے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس حملے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے مشرق وسطیٰ کے امن عمل اور توانائی کے عالمی انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس سے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔