Business
خام تیل کی قیمتیں آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے باعث غیر مستحکم
آبنائے ہرمز میں جاری تناؤ اور ٹرانزٹ کی پابندیوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی آئل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے کیونکہ تاجر خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اطراف میں جاری کشیدگی اور بحران کے حل نہ ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آنے والے دنوں میں انتہائی غیر مستحکم رہ سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں، جس کی وجہ سے تیل کے سوداگر کسی بھی بڑی تبدیلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمتیں بہتر ہو کر تقریباً 76.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر عائد پابندیوں نے مارکیٹ میں رسک پریمیم کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار خطے میں کشیدگی میں کمی یا صورتحال میں بہتری کے دعوؤں پر مکمل اعتماد کرنے سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے معاہدے اور امریکہ میں ملازمتوں کی نئی رپورٹس بھی اس وقت تیل کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ امریکی جابز رپورٹ اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ مختصر مدت میں مارکیٹ کے اندر غیر یقینی صورتحال کا یہ ماحول جاری رہے گا۔ خام تیل کی تجارت سے وابستہ افراد آبنائے ہرمز کے کھلنے یا بند رہنے کے منصوبوں پر آنے والے بیانات کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ اس اہم بحری راستے سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل کی ترسیل حاصل کرتا ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے، جو عالمی سطح پر معاشی چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں۔